بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "یروشلم انسٹی ٹیوٹ فار اسٹراٹیجی اینڈ سیکورٹی" (JISS) کی ایک رپورٹ میں، ـ جس کے مصنفین صہیونی رجیم کے دو سابق فوجی، کرنل "گابی سیبونی (Gabi Siboni)" اور بریگیڈیئر "ایرز وینر (Erez Wiener)" ہیں، علاقائی سمندری معاملات میں اسلامی جمہوریہ ایران اور یمن کی انصاراللہ کی طاقت کی ایک قابل غور تصویر پیش کی گئی ہے۔
عالمی معیشت کی شریانوں پر ایران کا تسلط
اسرائیلی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے ایک اور حصے میں اسلامی جمہوریہ سمندری تجارت کے معاملات میں ایران کے اسٹراٹیجک مقام کا جائزہ لیا گیا ہے اور اعتراف کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اثر انداز ہونے کی ایران کی صلاحیت نے، باب المندب میں انصاراللہ کی موجودگی کے ساتھ مل کر، توانائی اور سامان کی منتقلی پر، دو اہم راستوں سے، دباؤ ڈالنے کا امکان، فراہم کیا ہے۔
دوسری اور آخری قسط
مصنفین تشویش کے ساتھ وضاحت کرتے ہیں کہ ایران اور اس کے علاقائی شراکت دار تزویراتی آبی گذرگاہوں کو، علاقائی مسابقت کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں اور انصاراللہ تحریک اسرائیل، سعودی عرب، مصر، یورپ اور حتیٰ کہ امریکہ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مصنفین نے واضح کیا ہے کہ باب المندب سے گذرنے والے تیل اور تیل کی مصنوعات کی منتقلی 2023 میں روزانہ 8.7 ملین بیرل سے کم ہو کر 2024 کے پہلے آٹھ مہینوں میں تقریباً چار ملین بیرل رہ گئی۔
یہ اعداد و شمار ایران اور انصاراللہ کی میدان جنگ سے آگے اقتصادی اخراجات مسلط کرنے کی قابل ذکر صلاحیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسی طاقت جس کے اثرات بحیرہ احمر سے گذر کر بڑی شپنگ کمپنیوں کے فیصلوں، توانائی کی منڈی اور مغربی حکومتوں کے اقتصادی کھاتوں تک پر اثرانداز ہو چکی ہے۔
بحری سلامتی کی بحالی میں یمن مخالف اتحاد کی ناکامی
مصنفین نے امریکہ کی قیادت میں نام نہاد آپریشن "Prosperity Guardian" اور یورپی یونین کے آپریشن "Aspides" کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ انصاراللہ کے مقابلے میں ان اقدامات کی کارکردگی محدود رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عارضی فوجی کارروائیاں موجودہ صورتحال کا جواب نہیں ہیں اور سمندری خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک پائیدار اتحاد، وسیع تر معلوماتی تعاون اور مزید فوجی و اقتصادی اقدامات کی ضرورت ہے۔
[البتہ حقیقت یہ ہے کہ حقیقت یہ ہے نئی طاقتیں ابھر چکی ہیں جو روایتی مغربی قواعد میں غیر متوقعہ سمجھی جاتی تھیں اور آج یہ طاقتیں موجود ہیں اور انہیں بدلنے پر اصرار کرنے کے بجائے، عقل کا تقاضا ان سے سمجھوتہ کرنا اور ان کے ساتھ بقائے باہمی کے راستے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ نئی صورت حال فی الحال مغربیوں اور صہیونیوں کو ہضم نہیں ہو رہی اور لگتا ہے کہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر روایتی عالمی ترتیب بحال کرنے کی کوشش کریں۔ گوکہ کامیاب نہیں ہونگے، ان کی یہ کوششیں ان نئی طاقتوں کو مزید مضبوط کریں گی اور آخرکار انہیں ان سے سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا، اور مغربی طاقتیں بہت زیادہ کمزور ہو چکی ہونگی]۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ انصاراللہ کو عالمی تجارت پر اثر انداز ہونے کے لئے سمندری فتح یا آبی گذرگاہوں پر فوجی تسلط کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ صرف شپنگ کمپنیوں اور بیمہ کنندگان کا اعتماد کمزور کرنا ہی، منڈی کو اقتصادی حسابات پر نظرثانی پر مجبور کر سکتا ہے۔
واشنگٹن، جدید جنگی جہازوں، کثیر پرتوں والے دفاعی نظاموں اور وسیع فوجی موجودگی کے باوجود، اب تک تجارت کو متاثرہ راستوں پر معمول پر نہیں لا سکا ہے اور صورت حال ہنوز غیریقینی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: محمد بختیاری
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ