ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے اور جنگ شروع کرنے کی دھمکی دی اور ٹرمپ نے نیتن یاہو کی نکیل کھینچ کر اسے بیروت پر حملے سے باز رکھا، اسرائیلی سیاستدانوں اور ذرائع نے اپنے جرائم پیشہ وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جیسے:
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے لکھا: "اسرائیل میں نفسیاتی بیماریوں کے علاج کی درخواستوں میں 240٪ اضافہ ہؤا ہے، جو جنگ کی وجہ سے بڑھتے ہوئے نفسیاتی صدموں اور طویل مدتی قومی قومی تکلیف (ٹراما) کا نتیجہ ہے۔"
گوکہ اسرائیلی حکام نے 12 روزہ جنگ کے بعد "ایران کی میزائل انڈسٹری تباہ" کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اب عبرانی ذرائع ابلاغ نے نئی رپورٹیں شائع کرکے ایران میں میزائل کی پیداوار میں تیزرفتاری کا اعتراف کیا ہے؛ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نہ صرف مبینہ حملوں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے بلکہ ہر ماہ سینکڑوں مختلف النوع نئے میزائل تیار کر رہا گیا ہے۔
سی این این نے ایک رپورٹ میں عالمی سطح پر اسرائیل سے نفرت کی لہر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تنہا ہوتا جا رہا ہے اور منفی ردعمل معاشی، ثقافتی اور کھیل کے میدانوں تک بھی پھیل گيا ہے۔
غزہ پٹی میں نسل کشی کے بعد برازیل اور صہیونی ریاست کے تعلقات میں تناؤ کے تسلسل میں، برازیل کے صہیونی ریاست کے نئے سفیر کو قبول کرنے سے انکار کے بعد، تل ابیب نے برازیلیا کے ساتھ تعلقات کی سطح ایک بار پھر کم کر دی۔
اتوار (24 اگست 2025ع) کو ایک بڑے سائبر حملے کے بعد اسرائیلی انٹرنیٹ سروس کمپنی ریمون کے لاکھوں صارفین کو سائبر اسپیس تک رسائی سے محروم ہوگئے۔ کمپنی کی جاسوسی دستاویزات بھی ہیکرز کے ہاتھ لگ گئیں۔