22 اکتوبر 2026 - 22:26
یورپی نظام کو انتشار کا خطرہ / امریکہ تینوں جنگوں میں ناکام، جان میئرشیمر

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر کا خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی و عرب اتحادی ایران، یمن اور روس کے خلاف تینوں جنگوں میں ناکام ہو چکے ہیں؛ وہ زور دیتے ہیں کہ امریکہ کی ایران، محورِ مقاومت، چین اور روس سے دشمنی جاری رہے گی مگر وہ دشمنانہ رویے اور فوجی طاقت کے استعمال سے اپنے سیاسی اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔ / آل سعود کو امریکی ضمانتوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈاکٹر میئر شیمر کہتے ہیں کہ بن سلمان نے ٹرمپ کی اکسانے پر یمن کے خلاف جنگ شروع کی؛ اور آخر میں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی یوکرین کو ایک 'شکست سے دوچار جنگ' جاری رکھنے پر اکساتے ہیں۔ میئر شیمر بالآخر نتیجہ لیتے ہیں کہ امریکہ اور مجموعی طور پر مغرب تینوں جنگوں (یوکرین جنگ، ایران جنگ اور یمن جنگ) میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے عالمی سطح پر نیا کثیر قطبی نظام تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔

امریکی پروفیسر اور سیاسی سائنسدان جان میئر شیمر نے کہا:

یورپ کا سکیورٹی نظام مزید انتشار کا شکار ہوگا

• یوکرین کی جنگ ایک "منجمد تنازع" پر منتج ہوئی ہے؛ اس صورتحال میں تصادم کی شدت کم ہو جاتی ہے مگر روس اور دوسری طرف یوکرین و یورپی ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہتا ہے۔

• یہ صورتحال یوکرین کے لئے تزویراتی شکست اور یورپ کے لئے طویل مدتی عدم استحکام کا باعث ہوگی؛ روس اور یورپ کی دشمنی برسوں جاری رہے گی اور جنگ کا خطرہ باقی رہے گا۔

• روس اور مغرب کے درمیان دشمنی کا تسلسل یورپ کے سکیورٹی نظام کو شدید بحران میں مبتلا کر دے گا۔

تین جنگوں میں امریکہ کی شکست اور کثیر قطبی نظام کی طرف رفتار میں تیزی

• "امریکہ-اسرائیل بمقابلہ ایران"، "آل سعود بمقابلہ یمن" اور "روس بمقابلہ یوکرین" کی جنگوں نے ایک بنیادی نکتہ ثابت کر دیا ہے: امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی طاقت اور سیاسی دباؤ مخالف فریق پر مطلوبہ نتیجہ مسلط کرنے سے قاصر ہے۔

• تینوں معاملات میں واشنگٹن اور اس کے اتحادی ایسے تنازعات میں الجھ گئے ہیں جن میں نہ فتح کی کوئی واضح حکمت عملی ہے اور نہ وہ ان کے اخراجات اور طویل مدتی نتائج کو مؤثر طریقے سے اپنے قابو میں لا سکتے ہیں۔

میئر شیمر اس صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں:

• امریکہ اب اپنی فوجی طاقت کو پائیدار سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں کر سکتا اور یہ خلا بین الاقوامی نظام میں امریکی طاقت کی محدودیت (اور کمزوری) کا مظہر ہے۔

• اس عمل میں امریکہ کی بالادستی کا اعتبار اور اتحادیوں کا اس کی صلاحیت پر اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

• ساتھ ہی مخالف قوت نہ صرف اس جارحانہ رجحان کے سامنے مزاحمت کرنے۔ اور اسے اپنے اہداف تک پہنچنے سے روکنے، میں کامیاب ہوئی ہے، بلکہ ایک واضح تزویراتی ایجنڈا آگے بڑھانے اور اپنے مطلوبہ سیاسی نظام کی بنیاد رکھنے میں بھی کامیاب رہی ہے۔

• بین الاقوامی سطح پر کثیر قطبی نظام کی طرف حرکت میں تیزی آ رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha