10 اکتوبر 2026 - 20:32
3 | ایران کے ہاتھ امریکہ کی تاریخی شکست، فرید زکریا کی زبانی

نامور امریکی صحافی، بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور سی این این کے پروگرام "جی پی ایس" کے میزبان،  فرید زکریا، واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں 9 ثبوت دیئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے حالیہ جنگ میں امریکہ کو شکست دی ہے، اور جنگ جاری رکھنے کی صورت میں بھی ہرگز نہیں کہا جا سکتا ہے، کہ امریکہ جیت جائے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی آبنا || نامور امریکی صحافی، بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور سی این این کے پروگرام "جی پی ایس" کے میزبان،  فرید زکریا، واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں استدلال کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مبینہ فوجی کامیابیوں کو اس ملک کی فتح کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔/ مانتے ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کو نقصان پہنچایا لیکن نہ تو اس ملک کی حکومت کو گرانے میں کامیابی حاصل کی اور نہ ہی خود جنگ کے معاشی اور فوجی اخراجات سے محفوظ رہا۔ / امریکہ اب آبنائے ہرمز کے حالات کو جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز امریکی حملوں سے سے پہلے کھلا تھا۔

فرید زکریا لکھتے ہیں:

تیسری قسط:

6۔ امریکہ کے اتحادیوں کو بھی نقصان پہنچا

• جنگ کے نتائج امریکہ تک محدود نہیں رہے اور خلیج فارس کے ممالک کا واشنگٹن پر اعتماد، شدید متأثر ہؤا ہے، اور ان ممالک کو تیل کی برآمدات میں شدید کمی، سمندری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے اور سیاحت کے شعبے میں عظیم نقصانات کا سامنا ہے۔

• مثال کے طور پر، دبئی میں ہوٹل کمروں کی بکنگ فروری میں تقریباً 85 فیصد سے مارچ میں 23 فیصد تک گر گئی۔

• خطے کی حکومتوں کو انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور توانائی و سامان کی نقل و حمل کے متبادل راستے بنانے پر بھی اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے تاکہ آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کر سکیں۔

• دوسری طرف، دنیا کے مختلف حصوں میں توانائی درآمد کرنے والے ممالک بھی توانائی کی فراہمی کے بڑھتے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لہٰذا آبنائے ہرمز میں خلل پڑنے کے اثرات میدانِ جنگ سے آگے بڑھ کر علاقائی اور عالمی معیشتوں تک سرایت کر گئے ہیں۔

7۔ واشنگٹن کے مطالبات کا مسترد ہونا

• دشمن کی فوجی صلاحیت تباہ کرنا اور سیاسی نتیجہ حاصل کرنا، دو الگ الگ معاملات ہیں۔

• ویتنام کی جنگ میں امریکی فوج مسلسل تباہ شدہ ہتھیاروں اور ہلاک دشمن افواج کی تعداد کی رپورٹ دیتی رہی؛ لیکن کامیابی کا بنیادی معیار یہ نہیں کہ کتنا نقصان پہنچایا گیا، بلکہ یہ ہے کہ دشمن بالآخر ہتھیار ڈالتا ہے یا نہیں!

• ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے اور ایسی وجوہات موجود ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ مزید بمباری بھی یہ صورتحال تبدیل نہیں کرے گی۔

• ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ بارہا مخالف فریق کی فوجوں اور فوجی انفراسٹرکچر کو شدید تباہ کرنے میں کامیاب رہا، لیکن ان کامیابیوں کو پائیدار سیاسی نتائج میں بدلنے میں ناکام رہا۔

8۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اہداف میں تضادات

• ٹرمپ کے رویے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کی شروع کردہ جنگ کے حتمی مقصد کا غیر واضح ہیں۔ امریکی حکومت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ ایران کی پالیسیاں تبدیل کرنا چاہتی ہے یا اس ملک کی حکومت گرانا چاہتی ہے؟ اس تضاد کو سمجھنے کے لئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔

• بیسنٹ نے ستمبر میں کہا تھا کہ واشنگٹن کا دوسرے ممالک کو پیغام یہ ہے کہ "یہ جنگ اور اقتصادی پابندیاں حکومت کے خاتمے کے لئے ہیں"، لیکن ساتھ ہی زور دیا تھا کہ "اس جنگ اور پابندیوں کا مقصد لازماً ایران کی حکومت کا خاتمہ نہیں اور واشنگٹن تہران پر مذاکرات کے لئے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے!"

• ٹرمپ نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنی تقریر میں ایک طرف ایسے معاہدے کا امکان ظاہر کیا تھا جو ایران کو دوبارہ ایک زیادہ طاقتور ملک بننے کی اجازت دے گا، اور دوسری طرف اسلامی جمہوریہ کے فوری خاتمے کی بات کی تھی۔

• یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے تھے جب ان کے نمائندے اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کوشنر ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہے تھے۔

• یہ امریکی رویہ، اس سوال کو تہران کے سامنے رکھتا ہے کہ اگر واشنگٹن کسی بھی صورت حال میں ایران کی حکومت کے خاتمے کا خواہاں ہے تو ایران اس کو رعایت کیوں دے؟

• ایسے حالات میں ایران کی قیادت مزاحمت، امریکہ پر لاگت مسلط کرنے اور اس کو تھکا دینے تک جنگ جاری رکھنے کو زیادہ مناسب آپشن سمجھتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha