6 اکتوبر 2026 - 18:12
ایران کے بارے میں، ٹرمپ اور جے ڈی وینس میں عدم ہم آہنگی!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلائی دبئی کے حادثے میں ایران کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا اور گذشتہ رات بھی یہی دعویٰ دہرایا کہ "میرے خیال میں ایران فلائی دبئی کے حادثے کا ذمہ دار ہے۔" تاہم، نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر 5 اکتوبر 2026ع‍ کو الاسکا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "ایران کے اس حادثے سے تعلق کے بارے میں کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے اور امریکہ کو اب تک اس حادثے سے ایران کے تعلق کا کوئی قطعی ثبوت نہیں ملا ہے۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلائی دبئی کے حادثے میں ایران کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا اور گذشتہ رات بھی یہی دعویٰ دہرایا کہ "میرے خیال میں ایران فلائی دبئی کے حادثے کا ذمہ دار ہے۔" تاہم، نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر 5 اکتوبر 2026ع‍ کو الاسکا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "ایران کے اس حادثے سے تعلق کے بارے میں کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے اور امریکہ کو اب تک اس حادثے سے ایران کے تعلق کا کوئی قطعی ثبوت نہیں ملا ہے۔"

فلائی دبئی کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تفصیل:

مورخہ 30 ستمبر 2026ع‍ کو فلائی دبئی کا طیارہ دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی کہ اسی اثناء میں عمانی کو-پائلٹ نے پائلٹ پر حملہ کیا اور طیارہ طیارہ گرانے کی کوشش کی جس کے بعد اس طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر اترنا پڑا۔ طیارے میں 150 سے زائد اسرائیلی سوار تھے۔ مسافروں اور عملے نے نائب پائلٹ کو قابو کر لیا۔ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے اس واقعے کو دہشت گردانہ قرار دیا۔

سی بی ایس کی رپورٹ:

سی بی ایس نے اسرائیل کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ فلائی دبئی طیارے کو اغوا کرنے کی مبینہ کوشش ممکنہ طور پر ایک فرد کی ذاتی کارروائی تھی۔ ذرائع کے مطابق فلائی دبئی کے مذکورہ کو-پائلٹ ہمام الہمامی نے ایک موقع پر اسرائیلی ایئرلائن ایل عال کے طیاروں کی ویڈیو شیئر کی تھی جس کے اختتام پر القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی تصویر دکھائی گئی تھی؛ جو 2022ع‍ میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ امارات کی تحقیقات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ عمانی کو-پائلٹ نے رواں سال کے آغاز میں بھی تل ابیب کی پرواز کی تھی اور اسی وقت طیارہ اغوا کرنے اور گرانے کا ارادہ کیا تھا لیکن باز آ گیا۔

ایران کا ردعمل

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار 4 اکتوبر کو فلائی دبئی واقعے میں ایران کی مبینہ مداخلت اور برطانیہ کے فیئرفورڈ ایئربیس (RAF Fairford) میں رونما ہونے والے واقعے کے بارے میں سوال کے جواب میں "False flag" کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری اسکول کے بچے بھی اب سمجھ گئے ہیں کہ ایران پر الزام لگانے کے لئے یہ کتنی غیر پیشہ ورانہ اور عجلت زدہ کوشش ہے۔

انھوں نے کہا کہ صہیونی رجیم اور اس کے یورپی اور امریکی حامی فلسطین اور غزہ کے معاملے کو پس پشت ڈالنا اور ایران کے خلاف امریکہ و صہیونی رجیم کی فوجی جارحیت کو پس پشت ڈآلنا چاہتے ہیں اور یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ایران سے خطے یا عالمی برادری کو نیا خطرہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے اسے ایک بار بار استعمال ہونے والا پرانا اور جانا پہچانا ناکام حربہ قرار دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha