قاتل امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ امریکہ ہنوز ایران کے ساتھ کسی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے؛ ممکن ہے مسئلہ ختم کرنے کے لئے دوبارہ جنگ میں پلٹ جائیں شاید ایسا نہ بھی کریں!؛ سعودی قطری، اماراتی، پاکستانی اور دوسرے ابراہیم معاہدے سے آ ملیں / پاکستان نے ٹرمپی کال کو مسترد کر دیا۔
امریکی تجزیہ کار اور مصنف، نے ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو فوری طور پر مواخذہ، برطرف اور بین الاقوامی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں خصوصی نمائندے اسٹیو وِٹکاف نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ ایرانی حکام کی دباؤ کے باوجود نہ جھکنے والی پوزیشن سے حیران اور تشویش میں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو انہوں نے بھاری تجارتی پابندیوں کی دھمکی دے کر ختم کرایا۔
امریکی صدر بذات خود فتنے میں آیا اور وہ خود اس فتنے کا حصہ ہے۔ اس نے ان لوگوں کو، کچھ لوگوں کو ـ جنہوں نے تخریبکاری کی، آگ لگائی، اور جاکر غیر قانونی کام انجا دیئے، اور لوگوں کو قتل کیا، اس نے ان لوگوں کو "ملت ایران" کے نام سے پیش کیا؛ یعنی اس نے ایرانی قوم پر بہت بڑی تہمت لگائی؛ کہا: "یہ ایرانی قوم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ایرانی قوم کا دفاع کروں۔" یہ سارے کام جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ جو دلائل میں نے پیش کئے یہ سب مستند ہیں [اور ان کے ثبوت موجود ہیں] یعنی کوئی بھی خفیہ بات باقی نہیں رہی ہے؛ اس نے اعلانیہ کہا، آشکارا بات کی، آشکارا حوصلہ افزائی کی۔ ہمارے پاس ایسی دستاویزات ہیں کہ انہوں نے پے در پے ان لوگوں کی مدد کی، امریکیوں نے بھی اور صہیونی ریاست نے بھی، مدد کی۔۔۔ ہم امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں، جانی نقصانات کی خاطر بھی، مالی نقصانات کے لئے بھی اور ملت ایران پر تہمت تراشی کے لئے بھی۔