21 جولائی 2026 - 18:19
برطانوی وزیراعظم کا پہلا امتحان؛ کیا برطانوی حکومت امریکی فوجی مطالبات تسلیم کرے گی؟

برطانوی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نئی برطانوی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اسٹریٹجک فوجی اڈوں ڈیوگو گارسیا اور رَف فِیرفورڈ تک امریکی فوج کو آزادانہ رسائی کی ضمانت دے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبارات، بالخصوص ٹیلی گراف کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ برطانوی زیرِ انتظام اہم فوجی اڈوں تک امریکی رسائی برقرار رکھی جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اینڈی برنہم کے ساتھ ابتدائی سفارتی رابطوں میں امریکی افواج کے لیے رَف فِیرفورڈ (جنوب مغربی انگلینڈ) اور ڈیوگو گارسیا (بحر ہند) میں موجود فوجی اڈوں تک رسائی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ سفارتی و فوجی سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نئی لندن حکومت پر دباؤ ڈال کر اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ برطانوی سرزمین یا اس کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے حاصل ہونے والی فضائی اور رسدی معاونت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

قابل ذکر ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے دور میں لندن نے ابتدا میں بحر ہند میں واقع جزیرہ چاگوس کے ڈیوگو گارسیا فوجی اڈے سے امریکی بی-2 بمبار طیاروں کی پروازوں کے استعمال پر تحفظات ظاہر کیے تھے، تاہم بعد میں امریکی دباؤ کے باعث برطانیہ نے اپنے مؤقف میں نرمی اختیار کرتے ہوئے اس اڈے کے استعمال کی اجازت دے دی، جسے "دفاعی کارروائیوں" کا نام دیا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اینڈی برنہم کی حکومت سابق حکومت کی طرح امریکی فوجی ضروریات پوری کرنے کی پالیسی جاری رکھتی ہے یا وائٹ ہاؤس کے بڑھتے دباؤ کے مقابلے میں کوئی مختلف مؤقف اختیار کرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن ان فوجی اڈوں کو صرف رسدی سہولتوں کے لیے نہیں بلکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حکمت عملی کے اہم حصے کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha