بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب اسلامی نے ہفتۂ دفاع مقدس کے موقع پر اپنے پیغام میں انقلاب کے ابتدائی سالوں کے مقابلے میں آج ایران کے مقام کی تشریح کرتے ہوئے ایک بنیادی تبدیلی پر زور دیا؛ ایسی تبدیلی جو ایک ایسے ملک سے شروع ہوئی جس کے "ہاتھ" غیر ملکی جارحیتوں کے سامنے "خالی" تھے، اور ایسے ملک تک آ پہنچی جہاں آج "خود جارح تسلط پسند" اس کے حملوں کے سامنے پناہ تلاش کرتا ہے اور جنگ کے خاتمے کی بھیک مانگتا ہے۔
رہبر معظم نے اپنے پیغام میں آج کی دنیا میں ایران کے مقام کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "یہ دن جن سے آج ہم گذر رہے ہیں، ترقی، عزت، آزادی اور عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں اعتبار کی بلند ترین قدر سے مالامال ہو چکے ہیں۔ آج کچھ لوگ ـ دنیاوی قواعد کےتحت ـ ہمیں دنیا کی چوتھی سپر پاور سمجھتے ہیں، جبکہ اللہ کے قواعد کے مطابق ہم آج دنیا کی پہلی طاقت ہیں۔"
رہبر انقلاب کی تعبیر میں اہم نکتہ ایران کی طاقت کی نوعیت کی تبدیلی اور بڑی طاقتوں کے حساب کتاب پر اثر انداز ہونے کی اس کی صلاحیت میں اضافہ ہے؛ ایسا موضوع جو اس سے قبل بھی بعض تجزیہ کاروں اور غیر ملکی ذرائع کی طرف سے پیش کیا جا چکا تھا۔

جنگ نے ایران کو ایک عظیم عالمی طاقت بنا دیا
اس کی سب سے واضح مثالوں میں سے ایک شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر، رابرٹ اے۔ پیپ، کی طرف جاتی ہے۔
رابرٹ پیپ نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں "دنیا کی چوتھی طاقت کے مرکز" کی ظہور پذیری کا تذکرہ کیا ہے اور ایران کو امریکہ، چین اور روس کے مترادف قرار دیا ہے۔ مضمون کا عنوان بھی "جنگ ایران کو ایک عظیم عالمی طاقت بنا دیتی ہے" تھا۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کی دلیل جغرافیہ، آبنائے ہرمز، ڈرون اور میزائل کی صلاحیت، ایران کی برداشت اور خطے میں امریکی طاقت کے استعمال کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر مبنی ہے۔

پیپ نے کئی دن بعد Democracy Now سے گفتگو میں وہی تجزیہ دہرایا اور کہا کہ ایران "چوتھی طاقت کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے"۔
انھوں نے اس انٹرویو میں ایران کے جغرافیائی محل وقوع اور آبنائے ہرمز کو تہران کی طاقت کے سب سے اہم ذرائع میں سے ایک قرار دیا اور زور دیا کہ توانائی کے بہاؤ میں خلل ڈالنے کی ایران کی صلاحیت نے اسے روایتی فوجی صلاحیتوں سے بڑھ کر ایک اہم ہتھیار دے دیا ہے۔

ایران کا مختلف جغرافیائی-سیاسی ہتھیار
یہ خیال صرف ایک مضمون تک محدود نہیں رہا۔ انڈیا ٹوڈے نے 23 اپریل 2026 کو "کیا ایران دنیا کی چوتھی سپر پاور بن رہا ہے؟" کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی اور پیپ کے نقطہ نظر کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ شاید ایران اقتصادی اور روایتی فوجی طاقت کے لحاظ سے امریکہ کی برابری نہ کر سکے، لیکن جنگ اور آبنائے ہرمز کی پوزیشن نے تہران کے لئے ایک مختلف قسم کا جغرافیائی-سیاسی ہتھیار پیدا کر دیا ہے۔
یہاں تک کہ پاکستان ٹوڈے نے اگست میں "ایران دنیا کی چوتھی طاقت کا مرکز کیسے بن گیا" کے عنوان سے ایک رپورٹ میں اسی استدلال کی راہ پر چلتے ہوئے سیاسی ڈھانچے کو برقرار رکھنے، مزاحمت جاری رکھنے، آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے اور مخالف فریق پر اخراجات مسلط کرنے کی صلاحیت کو ایران کی طاقت کے ستون، قرار دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ