25 ستمبر 2026 - 15:18
1 | ٹرمپ کی شکست؛ جنگ تہران میں بھونچال واشنگٹن میں / دائیں بازو کے امپریلسٹوں کی بالادستی شکست

چھ ماہ کی جنگ نے جہاں ٹرمپ کو امریکہ کے اندر کمزور کر دیا ہے، وہیں اس کے سیاسی اتحاد کو توڑ دیا ہے اور عالمی امپیریلزم کے خلاف مزاحمت کے لئے نئے افق کھول دیئے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے خلاف ایک غیر قانونی، دہشت گردانہ اور مجرمانہ حملے کے آغاز کے چھ ماہ بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی اسٹریٹجک گھٹن روز بروز زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے کیمپ میں کچھ پرانے اور مشہور جنگجو (جن میں خلیج فارس کی دوسری جنگ کا معمار رابرٹ کیگن شامل ہے) بھی ٹرمپ کی رسوا کن شکست اس کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ آگے آنے والے مضمون میں، آرجنٹینی بائیں بازو کے تجزیہ نگار اور مصنفہ کلاڈیا سیناتی (Claudia Cinatti) نے لاطینی ویب سائٹ "لا ایزکیردا ڈیاریو (La Izquierda Diario)" (31 اگست) میں تسلط پسندی کے خلاف اور بالادستی مخالف سماجی بیداری کے نقطہ نظر سے ـ خاص طور پر خود امریکہ میں اور دنیا بھر میں ٹرمپ جیسے نیم فاشسٹ دائیں بازو کی سماجی بنیاد کے شدید کٹاؤ اور کمزوری کے حوالے سے ـ ٹرمپ اور اس کے امپیریلسٹ اتحادیوں کی شکست کا جائزہ لیا ہے۔

مضمون کا خلاصہ؛ اہم نکات:

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف "ایپک فیوری آپریشن" کے نام سے جنگ شروع کی۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ یہ ایک تیز اور کم خرچ فوجی کارروائی ہوگی، جس سے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گا اور امریکہ کے زوال کو روکے گا۔ وینزویلا میں کامیابی نے اسے آسان فتوحات کا لالچ دلایا۔ لیکن یہ جنگ چند گھنٹوں یا زیادہ سے زیادہ چار ہفتوں کے بجائے ایک طویل اور مہنگی جنگ بن گئی؛ جس کو اب تک سات مہینے ہو گئے ہیں اور کوئی باقاعدہ جنگ بندی نافذ العمل نہیں ہے۔۔

جنگ کا مقصد اور منصوبہ:

• ایران میں regime change (حکومت کی تبدیلی)، میزائل ذخائر اور جوہری پروگرام کی تباہی

• اسرائیل کا مقصد: ایران کی سیاسی، فوجی اور مذہبی قیادت کا خاتمہ

• پینٹاگون کا مقصد: فوجی اور اسٹریٹجک ڈھانچے کو تباہ کرنا

• توقع تھی کہ ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا، لیکن ایسا نہ ہوا

• ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی تھی، جسے ٹرمپ نے نظرانداز کیا تھا

امریکہ کے اندر اختلافات:

• نائب صدر جے ڈی ونس نے خبردار کیا تھا کہ جنگ ٹرمپ کے انتخابی اتحاد کو توڑ دے گی

• مارجوری ٹیلر گرین اور ٹکر کارلسن جیسے افراد ٹرمپ سے الگ ہو گئے

• سی آئی اے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کی اطلاعات کو "مضحک" اور "بکواس" قرار دیا

• تقریباً پوری امریکی حکومت جنگ کے خلاف تھی، لیکن ٹرمپ نے اپنی مرضی سے جنگ شروع ک کر دی

جنگ کے نتائج:

• ٹرمپ نے تقریباً 39 بار امریکہ کو فاتح قرار دیا، لیکن حقیقت میں کوئی مقصد حاصل نہیں ہؤا

• اب ٹرمپ کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، جو جنگ سے پہلے کا کھلا تھا

• امریکہ نے اقتصادی پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن چین نے اسے مسترد کر دیا

• ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ وہ "21ویں صدی کا ہربرٹ ہوور (Herbert Hoover)" نہ بن جائے

اعداد و شمار:

• امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر تقریباً 3,580 حملے کیے

• ایران نے 2,053 جوابی حملے کیے، خاص طور پر خلیج فارس میں امریکی اڈوں پر

• آبنائے ہرمز سے گذرنے والے تجارتی جہاز روزانہ 100 سے 5 تک کم ہو گئے

• جنگ کی لاگت: وزیر دفاع کے مطابق 37.5 ارب ڈالر، لیکن حقیقی تخمینہ 80 سے 100 ارب ڈالر

• تیل کی قیمت 22 فیصد بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر / جنگی اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو امریکی حکومت بتا رہی ہے۔

• امریکہ کے اسٹراٹیج آئل ریزروز 40 فیصد سے زیادہ کم؛ 1982 کے بعد کم ترین سطح

• پینٹاگون کے ہتھیاروں کے ذخائر شدید خالی:پٹریٹ  دفاعی میزائل 1,500 میں سے 830 اڑ گئے، 40 فیصد بیلسٹک میزائل اڑ گئے

• 25 فیصد MQ-9 ریپر ڈرون ضائع، ہر ایک کی قیمت 30 ملین ڈالر سے زیادہ [کچھ ممالک نے جنگ سے پہلے ایم کیو -9 فی ڈرون 104 ملین ڈالر میں خریدا ہے۔ ایران نے اب تک 53 ایم کیو -9 مار گرائے ہیں۔

• ہتھیاروں کے ذخائر بھرنے میں 2 سے 6 سال لگیں گے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha