بین الاقوامی اہل بیت(ص) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عرب دنیا کے مشہور تجزیہ کار، نجاح محمد علی نے ایک ویڈیو تجزیئے کے دوران کہا: نوٹ کیجئے: شہید خامنہ ای ایک اعجوبہ تھے، اور ان کے فرزند بھی ایک معجزہ ہیں، دیکھ لیں گے آپ۔
انھوں نے کہا:
آبنائے ہرمز ایران کے ہاتھ میں دباؤ کا اوزار ہے۔
آبنائے ہرمز میں، اوزاروں اور ذرائع کا ایک مجموعہ ایران کے ہاتھ میں ہے، میزائل، ڈرونز، بحری قوت، سمندری بارودی سرنگوں کے استعمال کی صلاحیت، لیکن سب سے اہم جغرافیہ ہے۔
کمانڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی،
یہی معجزہ جو ہمارے پاس ہے، "نئے خامنہ ای"، کا اس قضیے سے کیا تعلق ہے؟ نوٹ کرو
میں نے اس سے قبل آپ سے کہا کہ ہمارے زمانے کے شہید آقائے خامنہ ای، واللہِ ایک اعجوبہ (حیرت انگیز شخصیت) تھے؛ سید مجتبیٰ بھی اعجوبہ ہیں، آپ دیکھ لیں گے۔
ایرانی فوجی ڈھانچے میں ان حالیہ تبدیلیوں کی اہمیت کیا ہے؟
آپ نے دیکھا، ایران جارحانہ اور زیادہ جارحانہ پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور مسئلہ صرف میزائلوں کی تعداد نہیں ہے؛ فیصلہ سازی اور عملی کاروائیوں کی اہمیت زیادہ ہے۔
مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے انضمام کا اس تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ منصوبہ سازی اور آپریشن کی کمانڈ کے درمیان فاصلہ گھٹانا، دفاع سے جوابی کاروائی کی طرف منتقلی کے لئے زیادہ تیزرفتار فیصلہ سازی اور زیادہ سے زیادہ تیاری، یہ اہم ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ایران نے اس بار فوری طور پر جواب دیا، اور اس لحاظ سے، کمانڈ کی تیزرفتاری تسدید (Deterrence) کا ایک حصہ ہے۔
یہ کام سید مجتبیٰ کا ہے
دفاعی تسدید سے بڑھ کر جارحانہ تسدید میں منتقلی
اور شاید، میرے خیال میں اور بہت سے دوسروں کے خیال میں، اہم ترین دلیل یہی ہو
ہم نے دیکھا، لارک [جزیرے پر حملے کے بعد] کے منظرنامے میں نظریہ پہلے سے مختلف ہے۔ اگر آپ دشمن کو حملے سے نہیں روک سکیں گے، ایسا کام کرو کہ اس کا اقدام اس پر ایک بہت بڑا خرچہ مسلط کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ