بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رویٹرز نے ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ میں شامل امریکی فوجیوں کے خاندانوں کو درپیش شدید نفسیاتی دباؤ، معاشی مشکلات اور بے یقینی کا انکشاف کیا ہے۔
رویٹرز نے اس موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ پچھلے چھ مہینوں کے دوران امریکہ اور ایران کی جاری جنگ نے فوجی جانی نقصانات کے علاوہ امریکی مسلح افواج کے میں شامل فوجیوں کے اہل خانہ پر بھی نمایاں نفسیاتی اور معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ وہ خاندان جو مشنز کی طوالت، عزیزوں سے سے دوری، اور ان کے نامعلوم انجام کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں۔
تحریر کا خلاصہ:
جیسا کہ روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے ایران کے خلاف جاری جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے پر، امریکی فوجیوں کے اہل خانہ شدید نفسیاتی، معاشی اور جذباتی دباؤ کا شکار ہیں، ۔ مشنز کی طوالت، ڈیوٹی میں غیرمتوقع توسیع، آمدنی میں کمی، اور عزیزوں کی واپسی کے بارے میں بے یقینی نے ان خاندانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایک غیرمنافع بخش ادارے کے سروے میں 81 فیصد فوجیوں کے اہل خانہ نے جنگ کے بعد تناؤ میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔
اسی دوران، طیارہ بردار جہاز "ابراہام لنکن" 200 دن سے زائد عرصے سے مسلسل محاذ جنگ پر تعینات ہے، جسے کانگریسیوں نے جدید دور کا ریکارڈ قرار دیا ہے، جبکہ فوجی ذرائع نے اس جہاز پر خودکشی کی کوششوں اور حوصلوں کی پستی کی خبریں دی ہیں، جنہیں پینٹاگون نے مسترد کیا ہے۔
معاشی مشکلات بھی نمایاں ہیں، خاص طور پر نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کے لئے؛ جن کی معمول کی ملازمتیں اچانک ـ میدان جنگ پر ـ تعیناتی کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔

ایک افسر کی اہلیہ نے بتایا کہ اس کے شوہر کو صرف پانچ دن کے نوٹس پر محاذ جنگ بھیجا گیا اور ابتدائی مہینوں میں رابطہ بہت محدود تھا۔
مجموعی طور پر، امریکی فوجیوں کے اہل خانہ نفسیاتی دباؤ، مالی پریشانی اور مستقبل کی غیریقینی صورت حال سے دوچار ہیں، جبکہ حکومت اور پینٹاگون کے بجائے، امدادی ادارے ان کو مدد بہم پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی محمودی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ