14 اکتوبر 2026 - 21:58
بن سلمان کے 'اتحادی' جو صرف پیسہ بٹورنے کے لئے آئے آئے تھے! + ویڈیو

ٹیلی گرام چینل پارسین نے عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان کی ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں: محمد بن سلمان اس بات پر شدید مایوس ہے کہ اس کے اتحادی، چاہے امریکی ہوں یا عرب، اور یہاں تک کہ معاہدہ مکہ کے رکن ممالک بھی، سعودی عرب کی مدد کے لئے میدان میں نہیں اترے۔ / ایران نے ثالثی کی پیشکش کی جبکہ پاکستان، ترکیہ اور عرب ممالک آگے نہیں بڑھے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا: وہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب کے دفاع میں ایک بھی ترکی یا پاکستانی سپاہی مارا جائے۔ ترکیہ اور پاکستان نے یہ معاہدہ سعودی عرب سے اقتصادی مفادات حاصل کرنے کے لئے منعقد کیا تھا؛ لیکن جب سعودی عرب کو ان کی مدد کی ضرورت پڑی، تو اس کو اپنے ساتھ کوئی بھی نہ ملا۔

انھوں نے کہا: ٹرمپ کے بیانات اندرونی مصرف کے لئے، اور عملی طور پر سعودی عرب کو دھوکہ دینے کے لیے پیش کیے گئے تھے۔

ویڈیو کی تفصیل:

میزبان: جناب عبدالباری کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب غلطی پر ہے، کہ گمان کرتا ہے کہ وہ تکنیکی اور فضائی برتری، حوثیوں کے ساتھ جنگ کو انجام تک پہنچا لے گا، حالانکہ جنگ اس وقت ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی جنگ میں بدل گئی ہیں اور حوثی بھی ان ہی ہتھیاروں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟

عبدالباری عطوان: جیسا کہ بلومبرگ اور بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ دی ہے، سعودی عرب ناامیدی اور ناکامی کے احساس میں مبتلا ہے۔ سعودی عرب کا حکمران محمد بن سلمان بالکل مایوس ہو چکا ہے کیونکہ اس کے اتحادی ـ خواہ امریکی، خواہ عرب اور حتی کہ میثاق مکہ کے رکن ممالک ـ سعودی عرب کی مدد کے لئے میدان میں نہیں اترے ہیں۔

بلومبرگ کے محمد بن سلمان کے ساتھ قریبی تعلق ہیں۔ چنانچہ سعودی عرب کے سلسلے میں موصولہ رپورٹس ہمیشہ درست ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں کے میزائل اس وقت ےعمھی عوب میں اپنے اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے صرف گذشتہ ہفتے تین مرتبہ ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

میزبان: ٹرمپ کے موقف سے کیا تاثر لیا جا سکتا ہے؟ کیا ممکن ہے کہ امریکہ حوثیوں کے خلاف حملوں میں براہ راست رکت کرے، یا نہیں بلکہ یہ باتیں صرف امریکیوں کے اندرونی 'مصرف' اور خطے کے حالات پر اثر انداز ہونے کے لئے تھیں؟

عبدالباری عطوان: بالکل، مسٹر اینکر! یہ باتیں صرف اندرونی مصرف اور عملی طور پر، سعودی عرب کو دھوکہ کے دینے کے لئے تھیں۔

میرے خیال میں ایران کی طرف سے یمنی اور سعودی فریقوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش، بہت اچھا موقف ہے۔ یقینا جو چیز مجھے حیران کرتی ہے یہ ہے کہ کوئی بھی عرب ثالث بیچ میں نہیں آیا، نہ ترکیہ، جو سعودی عرب کا اتحادی ہے، اور نہ ہی پاکستان، اور نہ ہی کوئی عرب ملک ـ جو کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی سلامتی ہماری سلامتی ہے ـ آگے نہیں آئے ہرگز۔

ایسے حالات میں، ایران میدان میں آیا اور اعلان کیا کہ فریقین کے درمیان ثالثی اور مذاکرات کے لئے تیار ہے۔

ادھر ترکیہ کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ 'سعودی عرب کے ساتھ ہمارا معاہدہ، دفاعی ہے؛ لیکن اس کے باوجود ترکیہ کی پارلیمان نے اس معاہدے کو ابھی تک منظور نہیں کیا ہے۔

بہت خوب! اگر یہ معاہدہ دفاعی ہے اور سعودی عرب کو میزائل حملوں کا سامنا ہوتا ہے، حالانکہ حملے کی حالت میں نہیں ہے، اور دفاعی حالت میں ہے، تو ترکیہ سعودی عرب کی حمایت کے لئے میدان میں کیوں نہیں اترا ہے؟ پاکستان نے بھی کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔

میرے جائزے کے مطابق، وہ اس بات کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں کہ کوئی پاکستانی یا ترکی سپاہ مارا جائے۔ انھوں نے یہ معاہدہ سعودی عرب سے اقتصادی مفادات حاصل کرنے کے لئے منعقد کیا تھا؛ لیکن جب سعودی عرب ان کی مدد کا محتاج ہؤا تو ان سعودیوں نے ان میں کسی ایک کو بھی اپنے ساتھ نہیں دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha