بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس نے پروگرام "گوئنگ انڈر گراؤنڈ" کو دیے گئے انٹرویو میں دوسرے ممالک کے سربراہان کے قتل کے لئے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔
پروفیسر ڈاکٹر جیفری ساکس (Jeffery Sachs) رشیا ٹوڈے چینل کے پروگرام "Going Underground" کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے خلاف "امریکہ اور اسرائیل کی بے رحمانہ جارحیت" اور تنازع کے پہلے دن ملک کے سینئر حکام کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
• میرے خیال میں لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ حملے کے دن ایرانی قائدین مذاکرات کے اگلے دور کے بارے میں بات چیت کے لئے جمع ہوئے تھے، کیونکہ مذاکراتی عمل شروع ہونے والا تھا۔
• یہی امریکہ اور موساد کا طریقہ کار ہے: مخالف فریق کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور پھر، ٹھیک اس وقت جب وہ اکٹھے ہوں، انہیں قتل کر دیں۔ یہی وہ پالیسی ہے جو انھوں نے اپنائی۔
• وہ اس بارے میں بات چیت کے لئے جمع ہوئے تھے کہ امریکی تجاویز کا کس طرح جواب دینا ہے یا اگلے دور کے مذاکرات میں کیا پیش کرنا ہے، ایسے مذاکرات جو اگلے ہفتے ویانا میں ہونے والے تھے۔ عمانی ثالث نے مذاکرات کی پیش رفت کا ذکر کیا تھا اور اسی وجہ سے موساد، ٹرمپ اور بی بی (نیتن یاہو) نے سوچا کہ یہ انہیں قتل کرنے کا بہترین موقع ہے!
• ایران قدیم تاریخ و تہذیب کا امین ہے، وہ بہت مہذب اور شریف لوگ ہیں۔ میں انہیں جانتا ہوں۔ میرے خیال میں وہ 2500 سالہ پرانی تہذیبی عزت اور وقار کے وارث ہیں۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پارس [کی تہذیب] ازل سے موجود ہے۔
• ایرانی مذاکرات کار، بہت باوقار، بہت ذہین اور بہت تعلیم یافتہ افراد ہیں، لیکن امریکہ اور اسرائیل انہیں محض قتل کے اہداف سمجھتے ہیں! قتل امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ اب تک متعدد سیاستدان اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ایران کے خلاف امریکہ - اسرائیلی جارحیت پر تنقید کر چکے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے جنگی جرائم کی مذمت کی جن کے نتیجے میں رہبرِ شہیدِ انقلاب اور ان کے خاندان کے افراد، ایران کے سینئر راہنما، میناب میں پرائم اسکول کے بچوں اور بچیوں اور لامرد کے اسپورٹس کمپلیکس میں بچوں نے جام شہادت نوش کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ