27 اگست 2026 - 06:16
سعودیہ اور امارات کو ایران کی طاقت تسلیم کرنا پڑے گی، جوزف ماجکوٹ - 2

امریکی تھنک ٹینک میں توانائی کی سلامتی پروگرام کے ڈائریکٹر کا خیال ہے کہ ایران، کسی بھی قسم کی حکمرانی کے ساتھ، خلیج فارس کی مرکزی طاقت اور ایک پائیدار حقیقت ہے، اور خطے کی ریاستوں کو چاہئے کہ اسی اہم نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تمام منصوبے ترتیب دیں۔ / یہ ریاستیں اس یقین تک پہنچ ہی گئی ہیں کہ ان ریاستوں یقین ہو گیا ہے کہ وہ اب مزید امریکہ پر ایک استحکام بخش عنصر کے طور پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "سی ایس آئی ایس (Center for Strategic and International Studies [CSIS])" میں توانائی کی سلامتی پروگرام کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر جوزف ماجکوٹ (Joseph Majkut)،  کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا کے ممالک کی نظر میں ایک ناقابل اعتبار اور ناقابل اعتماد اداکار بن چکا ہے۔

دوسری قسط:

'چین نے استحکام اور توازن کے ضامن کے طور پر' 'تناؤ پیدا کرنے والے امریکہ' کو راستے سے ہٹا لیا ہے

ماجکوٹ، جس نے امریکی سینیٹ میں بھی تحقیقی کام کیا ہے، وضاحت کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک غیر مستحکم ترتیب (Unstable [World] Order) میں داخل ہو رہی ہے جس میں روایتی اصول اور ضمانتیں تقریباً بے معنی ہو چکی ہیں۔ کیونکہ امریکہ کے یکطرفہ اقدام سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ دیگر طاقتیں مستقبل میں، صرف اپنے براہ راست مفادات کی بنیاد پر، کام کریں گی۔

تاہم، وہ اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ اس ہنگامہ خیز ماحول میں چین غیر متوقعہ طور پر توانائی کی عالمی منڈی میں توازن پیدا کرنے والے اہم ترین عوامل میں سے ایک بن گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے یومیہ ـ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گذرنے میں خلل پڑنے کے بعد، ـ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی توقع تھی، لیکن چین نے اپنی سمندری تیل کی درآمدات میں نمایاں طور پر 3 سے 5 ملین بیرل یومیہ کمی کرکے سپلائی کے جھٹکے کو بے اثر بنایا، اور اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور مرکزی ڈھانچے پر دوبارہ انحصار کرتے ہوئے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کی۔

لہٰذا اب جبکہ فوجی طاقت کے ذریعے مارکیٹ سیکورٹی فراہم کرنے والے کے طور پر، امریکہ کا روایتی کردار زوال پذیر ہے، ہم ایک ایسے ماڈل کے ابھر آنے کے گواہ ہیں جس میں چین، اپنی اقتصادی صلاحیت اور مانگ کے انتظام کے ذریعے، توانائی کی عالمی منڈی کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی ترتیب (World Order) میں گہری تبدیلی آئی ہے۔

امارات اور سعودی عرب کو یقین ہو گیا ہے کہ واشنگٹن کے سیاسی فیصلے غیر معتبر ہیں

ڈاکٹر ماجکوٹ کا خیال ہے کہ خلیجی ریاستیں بنیادی طور پر واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ وہ ایک طرف اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا، اور انہیں جنگ کے اگلے مورچے میں کھڑا کیا گیا ہے اور یوں انہیں اس [پرائی] محاذ آرائی کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے اور دوسری طرف انہیں یقین ہو گیا ہے کہ امریکہ کی ماضی کی حفاظتی ضمانتیں، مستقبل میں ان کے لئے بالکل بے سود ہونگی۔ چنانچہ ان ممالک کے لئے خطرات سے بچنے اور تعلقات کو متنوع بنانے کی طرف بڑھنا اور امریکہ پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کرنا فطری امر ہے۔

ماجکوٹ کا خیال ہے کہ یہ تنوع صرف فوجی اور سیکورٹی کے شعبوں میں نہیں ہے۔ خطے کے ممالک، خاص طور پر امارات اور سعودی عرب، مصنوعی ذہانت اور اہم انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں امریکی موجودگی اور اقتصادی سرمایہ کاری کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے میں امریکی مفادات اب توانائی کی سلامتی تک محدود نہ رہیں، بلکہ اس حد تک پھیل جائیں کہ واشنگٹن کو ان کی حفاظت کی ضرورت پڑے۔ [کیونکہ وہ جنگ کے دوران عرب ریاستوں کی حفاظت میں سنجیدہ نظر نہیں آیا]۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات بھی خلیج فارس کی سلامتی کے ضامن اور محافظ کے طور پر امریکہ کی روایتی پوزیشن کو مکمل طور پر بحال نہیں کر سکتے کیونکہ خطے کے ممالک اب جان چکے ہیں کہ امریکی سیاست اب بالکل ناقابل اعتماد، غیر متوقعہ اور متزلزل ہو گئی ہے۔

ایران اپنے "اسٹریٹیجک صبر" کے ثمرات حاصل کر رہا ہے

ڈاکٹر جوزف ماجکوٹ کے خیال میں، توانائی کی منتقلی، مصنوعی ذہانت، اقتصادی ترقی اور لیبر مارکیٹ میں تبدیلیوں کا امتزاج اگلی دو دہائیوں میں بنیادی طور پر سیکورٹی کی روایتی تعریف کو تبدیل کر سکتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ سیکورٹی کا مطلب مضبوط فوج، تیل کے وسائل کی حفاظت اور فوجی اتحاد پر انحصار، نہیں ہوگا، بلکہ اقتصادی تحفظ، ٹیکنالوجی، توانائی اور انفراسٹرکچر بھی اس کے اہم حصے بن جائیں گے۔

ان کا خیال ہے کہ ایران بھی اس جنگ کو ایک عارضی تنازع کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے "تزویراتی صبر" کی حکمت عملی کا پھل چن لے۔ اس طرح، ایران ٹرمپ کی دھمکیوں کو اس کی [اپنی] تشویش اور پریشانی کی علامت سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر، اپنی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نیز ایران آبنائے ہرمز کے فارمولے میں اپنا کردار جاری رکھ کر، توانائی کی منتقلی سے آمدنی کا ایک پائیدار ذریعہ حاصل کرے گا اور طویل مدت میں، جنگ کے اخراجات برداشت کرکے، تزویراتی فوائد اور کامیابیوں کو مستحکم کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: رضا حسینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha