23 اگست 2026 - 22:18
ہم امریکہ کے بَغَل میں تجارت کر رہے ہیں اور دشمن کو بائی پس کرتے ہیں، سپاہ پاسداران - 2

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے کہا: ہم امریکہ کے بغل میں دنیا والوں کے ساتھ اقتصادی لین دین کرتے ہیں، امریکہ کو بائی پاس کرتے ہیں؛ آپ بھی اس کا نتیجہ عنقریب دیکھ لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دشمن اس لئے جنگ لڑ رہا ہے تاکہ ہمیں یقین دلائے کہ وہ جیت رہا ہے۔ میڈیا والوں کو دشمن سے لڑنا چاہئے تاکہ دشمنوں کو بتا دیں کہ تم جیت نہیں سکتے ہو اور اب تک بھی نہیں جیت سکے ہو۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛  سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر حسین محبی نے آج کرج میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: جنگِ رمضان، امریکہ کی طرف سے ایک ایسے ملک کے ساتھ جنگ ہے جو 47 سال سے پابندیوں کا شکار ہے، اور ایران کی طرف سے ایک ایسی سپرپاور کے ساتھ جنگ ہے جس نے جنگی آلات کے لحاظ سے دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل پاسداران حسین محبی نے کہا:

دوسری اور اخری قسط:

• ہم دشمنوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم فوجی میدان میں جیت جاتے تو تمہیں اقتصادی جنگ شروع کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ کیا ایران کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ نئی ہے؟ تم تو 47 سال سے اقتصادی جنگ لڑ رہے ہو اور ہماری معیشت کے تمام ستونوں پر پابندیاں لگا چکے ہو۔ دشمن کا موجودہ کام صرف ادراک سازی اور عوام میں یقین دلانا ہے کہ وہ اس جنگ میں جیت جائے گا!!

• ہم بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ دشمن کے ہر اقدام کے لئے ہمارے پاس جوابی منصوبہ ہے۔ دشمن کے مخالفانہ اقدامات میں سے ایک اقتصادی اقدامات اور معاشی جنگ ہے۔ ہمارے پاس دشمن کی جنگ کے برے اثرات کو دور کرنے کے لئے منصوبہ ہے اور ہم آسانی سے دوسرے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم کرتے ہیں؛ معاشی معاملات کے حوالے سے کوئی فکرمندی نہیں ہے۔

• ہم امریکہ کے بالکل قریب، اقتصادی تعامل اور لین دین کر رہے ہیں، ہم امریکہ کو بائی پاس کر رہے ہیں اور ہماری قوم بھی اس کا نتیجہ عنقریب دیکھ لے گی۔

• دشمن اس لئے جنگ لڑ رہا ہے تاکہ ہم یقین کریں کہ وہ جیت رہا ہے۔

• میڈیا والوں کو دشمن سے لڑنا چاہئے تاکہ دشمنوں کو بتائیں کہ تم جیت نہیں سکتے اور اب تک بھی جیتے نہیں سکے ہو۔

• ہم نے حالیہ جنگوں میں انہیں تہس نہس کر دیا اور ان کا سارا نیٹ ورک تباہ کر دیا اور وہ بھاگ گئے۔

• جنگِ رمضان سے پہلے، دشمن کے کم از کم 30-40 جنگی جہاز خلیج فارس میں موجود تھے اور اب دشمن خلیج فارس کے پانیوں سے 400 میل دور ہٹ چکا ہے۔

• ہم امریکہ سے کہتے ہیں: تم نے اپنے تمام تر فوجی اثاثے جمع کر لئے تاکہ آبنائے ہرمز کو بند کرو، لیکن ایسا نہیں کر سکے ہو۔ تم کس سے لڑ رہے ہو؟ کس کو شکست دینا چاہتے ہو؟

• امریکہ اس وقت شکست خوردہ ہے۔ اگر شکست نہ ہوئی ہوتی تو پیچھے نہ ہٹتا اور اقتصادی جنگ کا اعلان نہ کرتا، کیونکہ اقتصادی جنگ کوئی نئی چیز نہیں ہے، کئی دہائیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوتی رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha