بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کل شام یمن کی مسلح افواج کے ترجمان کے بیان کے بعد، جس میں گذشتہ ایک مہینے میں سعودی عرب کو ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا تذکرہ تھا، سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ یمن سعودی عرب کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے "دوسرے مرحلے" میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔
یحییٰ سریع کا کہنا تھا: "صنعاء کی افواج نے سعودی سرزمین کے اندرونی علاقوں میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی تسدیدی کارروائیوں کا ایک سلسلہ سراننجام دیا ہے اور اہداف کو درست نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سعودی بادشاہت کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں آرامکو کمپنی کی تنصیبات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔"

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید کہا: "ینبع، نجران، جیزان اور ابہا کے علاقوں پر 9 حملے کئے گئے اور منطقۃ الشرقیہ سے لے کر دوسرے کئی علاقوں تک ایندھن کی ترسیل کا نظام بھی نشانہ بنایا گیا۔"
انھوں نے مزید کہا: "یہ کارروائیاں صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے اور الحدیدہ بندرگاہ پر سعودی جارحیت کے جواب میں اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے فارمولے کو مستحکم کرنے کے مقصد سے کی گئیں"۔
سریع نے سعودی عرب کو مستقبل میں کسی بھی کشیدگی پیدا کرنے والے اقدام کے بارے میں بھی خبردار کیا اور زور دیا کہ "یمن کا جواب جامع اور فیصلہ کن ہوگا۔"
سریع نے (تعز کے مغرب میں) المخا کے ساحلوں پر سعودی فوجیوں اور اسلحہ لے جانے والے دو عسکری جہازوں کو جلا ڈالنے اور ڈبو دینے کا تذکرہ بھی کیا ـ
ان کے کہنے کے مطابق، یہی انجام 10 سے زائد جنگی کشتیوں کا بھی ہؤا جو بحیرۂ احمر میں ڈاکہ زنی اور قزاقی میں مصروف تھیں۔
المخا میں باخبر ذرائع نے زور دے کر کہا ہے کہ یمنی افواج نے اس شہر کے ساحلوں پر بحری اڈے کو نشانہ بنا کر وہاں ہونے والی جنگی تیاریوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
سعودی افواج کی رسد اور اجتماع کے مراکز کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں، سریع نے اعلان کیا کہ "الرویک"، "العبری"، "الودیعہ"، "مأرب" اور "المخا" کے علاقوں میں 14 عسکری کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں سعودی کمانڈروں اور افسران سمیت سینکڑوں دشمن فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
"الاخبار" نے کے رپورٹر رشید رشید الحداد نے مزید لکھا کہ ریاض کے خلاف یمنیوں کی 4 ہفتوں کی عسکری کارروائیوں کے نتائج کا اعلان ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب صنعاء بیک وقت اپنے مطالبات کی سطح بلند کر چکا ہے۔ سریع کے مطابق صنعاء کے نئے مطالبات میں "یمنی عوام کے خلاف سعودی جارحیت کا مکمل خاتمہ، ہر شکل اور عنوان کے تحت سعودی قبضے میں جانے والے علاقوں سے فوجوں کا انخلا، سعودی عرب سے وابستہ عسکری گروہوں کی مالی اور عسکری امداد کا خاتمہ، اور یمنی عوامی دولت کی یمنی عوام ہی کی واپسی" شامل ہیں۔
یمن کی بحری ناکہ بندی کے آغاز میں بنیادی مطالبات، اقوام متحدہ کے "روڈ میپ" (جس پر 2023 کے آخر میں دستخط کئے گئے) پر عمل درآمد تھے، جس میں بحری اور فضائی ناکہ بندی کا خاتمہ، 2014 کی فہرستوں کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، قیدیوں اور نظربندوں کے مکمل معاملے کا فیصلہ، اور یمن کے صوبوں کے درمیان بند راستوں کو کھولنا شامل تھا۔
صنعاء میں مبصرین کے مطابق، نئے مطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انصاراللہ ریاض کے ساتھ کشیدگی کی سطح بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے پاس ایسے عسکری آپشنز ہیں جو "مرحلۂ اول" میں استعمال نہیں کئے گئے۔

اسی سلسلے میں، عسکری ذرائع نے "الاخبار" کو بتایا کہ سریع کا بیان ایک نئے مرحلے کے آغاز کا انتباہ ہے جو سعودی عرب کے لئے زیادہ دردناک ہوگا۔
ان ذرائع نے واضح کیا کہ صنعاء کے عسکری آپشنز میں سے ایک جنگ کو سعودی عرب کی "جنوبی سرحدوں" تک منتقل کرنا اور سرحدی پٹی پر ایک وسیع زمینی عسکری کارروائی کرنا ہے۔
"انصاراللہ" تحریک کے قریب بعض رہنماؤں نے بھی گذشتہ دنوں میں مغربی ساحل اور مأرب اور الجوف کے صوبوں میں سعودی افواج کی رسد اور نفری تعینات کرنے کی کارروائیوں کے جواب میں سعودی بادشاہت کی جنوبی سرحدوں کے محاذوں کو بھڑکانے کا مطالبہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ