بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روزانہ 15000 کھانے کے پیکج تیار کرنا، ماہانہ 450000 کھانے، اور روزانہ دس ٹن خوراک کی کھپت؛ یہ اعداد و شمار ایک جنگی گروہ کو ساحل سے دور تعینات رکھنے کی بھاری لاگت سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ یہ بحری جہاز خوراک پیدا نہیں کر سکتا؛ اسے ہر بار مشکل اور خطرناک راستوں سے رسد پہنچانا پڑتی ہے، اور سپلائی چین میں معمولی سا خلل ملاحوں کو ہفتوں بھوکا رکھ سکتا ہے، کیونکہ یہ جہاز ایرانی حملوں کے خوف سے کسی بندرگاہ کی طرف نہیں بڑھ سکتا اور جہاں اس کے اڈے تھے وہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں۔

لیکن بحران صرف خوراک تک محدود نہیں ہے۔ معتبر ذرائع (سی این این، نیویارک ٹائمز، گارڈین) کے مطابق، جہاز میں کالی پھپھوند (Black fungus) پھیل چکی ہے، صابن اور ٹوتھ پیسٹ جیسی بنیادی اشیاء نایاب ہیں، کپڑے ہفتوں نہیں دھوئے جا سکتے، حمام ناقص یا ناپاک ہیں، اور گرم پانی مسلسل بند رہتا ہے۔

اس جسمانی اذیت کے ساتھ ذہنی عذاب نے ملاحوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ 250 دن کی مسلسل سمندری زندگی، غیرانسانی حالات، اور انتہائی دباؤ نے کئی ملاحوں کو خودکشی کی کوشش پر مجبور کر دیا؛ جنہیں دوسرے ساتھیوں نے بچایا۔ ایک ملاح کی بیوی نے روہانسے لہجے میں کہا کہ اس کے شوہر نے اسے پیغام بھیجا: "مجھے امید ہے کل صبح جاگ کر نہ اُٹھوں۔"

پینٹاگون کے حکام نے ابتدا میں ان تمام رپورٹس کو جھوٹا قرار دیا، مگر میڈیا کے مسلسل انکشافات نے ان حالات کی تصدیق کر دی۔
یہ منظر امریکہ کی "بڑی طاقت والی" شان کے پردے کے پیچھے ایک خوفناک حقیقت کو عیاں کرتا ہے؛ کہ اپنے ہی فوجیوں کی بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے میں یہ طاقت انتہائی مجبور اور بےبس دکھائی دیتی ہےتو یہ دوسروں کا خاک تحفظ کرے گی؟

آج بھی امریکہ کے قصیدے پڑھنے والے مسلم حکمرانوں کو عقل اور شرم (دونوں ایک ساتھ) کب آئے گی؟ اور وہ اس ڈوبتی ریاست سے اپنا مقدر الگ کرنے کی جرات کب کریں گے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ