اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے عراقی بینک کاری نظام اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی سے متعلق شرائط بغداد پر مزید دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔
اقتصادی ماہر فالح الزبیدی نے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراقی معیشت اب بھی امریکی حکومت کی عائد کردہ پابندیوں اور اس پر انحصار کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے بقول، واشنگٹن مالی اور اقتصادی معاملات کو عراق پر دباؤ بڑھانے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
الزبیدی نے مزید دعویٰ کیا کہ عراق کے اہم اقتصادی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بغداد کی آزادانہ اقتصادی پالیسی سازی کو متاثر کر رہا ہے اور سرمایہ کاری کے شراکت داروں میں تنوع پیدا کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ میں بھی امریکی مالی دباؤ کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ کوآرڈی نیشن فریم ورک سے وابستہ رکن پارلیمنٹ شاکر التمیمی نے کہا کہ اقتصادی انحصار خودمختار فیصلوں کو متاثر کرنے کا خطرناک ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عراق کو اپنے بین الاقوامی اقتصادی شراکت داروں میں تنوع پیدا کرنے اور بڑی عالمی معاشی طاقتوں کے ساتھ سرمایہ کاری و تعاون کے دروازے کھولنے کی رفتار تیز کرنی چاہیے۔
التمیمی کے مطابق، متوازن بین الاقوامی تعلقات ہی عراق کی قومی اور مالی سلامتی کو مضبوط بنانے کا راستہ ہیں، جبکہ پارلیمنٹ ایسے اقدامات کی حمایت کرے گی جو ملک کی معاشی خودمختاری بحال کرنے میں مدد دیں۔
رپورٹ کے مطابق، علی الزیدی کا متوقع نیویارک دورہ عراقی حکومت کے لیے اس حوالے سے اہم موقع سمجھا جا رہا ہے کہ وہ معاشی تعلقات میں نیا توازن قائم کرنے اور توانائی سے حاصل ہونے والے مالی وسائل پر بینکاری پابندیوں سے متعلق موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔
رپورٹ میں بعض مبصرین کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی شرائط کے سامنے پسپائی سے عراق کے مالی اور خودمختار فیصلوں پر بیرونی اثر و رسوخ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ