بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، شیعیان اہل بیت(ع) کے مرجع تقلید، مفسر قرآن، عظیم فلسفی، حکیم اور حوزہ علمیہ قم کے استاد آیت اللہ العظمیٰ عبداللہ جوادی آملی نے آمل شہر کے 398 فوجی شہداء کی یاد میں منعقدہ کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں تمام شہیدوں ـ بالخصوص شہر آمل کے شہداء ـ کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید میجر جنرل سید مسعود منفرد نیاکی کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ عظیم المرتبت شہید عظیم منفرد خاندان کے سپوت اور آمل کے گراں قدر سادات میں سے تھے؛ ایک آزاد اندیش شخصیت کے مالک اور لوگوں میں مقبول عام تھے جو علمی مراحل طے کرنے کے بعد فوج سے جا ملے اور ایک بڑی ذمہ داری سنبھال کر آخرکار جام شہادت نوش کر گئے۔
انھوں نے تاکید کی کہ ایثار و شہادت کی ثقافت آمل یا ملک کے شمالی علاقوں پر منحصر نہیں ہے۔ ملت ایران نے کبھی بھی جارحیت کا آغاز نہیں کیا ہے، لیکن یہ قوم کسی بھی جارح کو امان نہیں دیا کرتی؛ آمل کے عوام نے بھی جنوری 1982ع میں، دشمن کے حملے کے بعد، بہادری سے شہر کا دفاع کیا اور ایک زندہ جاوید حماسہ رقم کیا، اور چالیس شہیدوں کا نذرانہ دے کر ایسا اعزاز کمایا جو اس سرزمین کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید رہے گا؛ ایسا اعزاز جس امام خمینی(رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنے الہی-بسیاسی وصیت نامے میں تذکرہ فرمایا ہے۔
انقلاب اسلامی اور ملک کے دفاع کے لئے موجودگی اور قربانی، نصرتِ الٰہیہ کا مظہر ہے
حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی حدیث کی طرف اشارہ کیا جہاں آپؑ فرماتے ہیں کہ "رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے کبھی بھی کسی پر شب خون نہیں مارا [اور کسی پر بھی جارحیت نہیں کی]؛ ہم ایک ایسے الٰہی مکتب کے شاگرد ہیں جس کی زمین و زمان میں کوئی مثال نہیں ہے؛ باوجود اس کے، کہ دشمن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے قتل کے درپے تھے، لیکن آپؐ نے پر اچانک حملہ نہیں کیا، کیونکہ اسلام جواں مردی اور حریت کا دین ہے لہٰذا اس کی ہدایت یہ ہے کہ حتیٰ اگر تم کفار کے ساتھ بھی جنگ کرتے ہو، تو بھی مردانہ وار لڑو اور انسانی اور الٰہی اصولوں سے دوری اختیار نہ کرو۔"
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے انقلاب اسلامی اور ملک کے دفاع کے لئے عوام کی موجودگی اور قربانی، کو نصرتِ الٰہیہ کا مظہر قرار دیا اور فرمایا: خدائے سبحان نے مؤمنین کو اپنے دین کے دفاع کے لئے میدان میں اتارا، راتوں کو ایرانی عوام، مردوں، عورتوں، نوجوانوں، چھوٹوں اور بڑوں کا یہ عظیم قیام بھی یہ ہے جو اس نے ارشاد فرمایا: "﴿هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ؛ وہ وہ ہے جس نے آپ کو تقویت پہنچائی اپنی امداد سے اور ایمان والوں کی جماعت سے﴾۔" یعنی اللہ وہ ہے جو خود بھی مدد فرماتا ہے اور لوگوں کو بھی مبعوث فرماتا ہے کہ اس کے پیغمبر اور اس کے دین کی نصرت کریں۔
انھوں نے میدان جنگ میں امیر المومنین علی (علیہ السلام) کے کردار کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: تمام جنگوں میں امامؑ - جہاں تک ممکن تھا، گفتگو، مذاکرات اور ملنے جلنے کے ذریعے جنگ کو مؤخر کیا کرتے تھے تاکہ جنگ دن کے ابتدائی اوقات میں شروع نہ ہو۔ بلکہ دلوں کی رہنمائی اور ظہر کے وقت کی رحمت الٰہی کی گھڑیوں تک مستفید ہونے کا موقع فراہم ہو اور دوسری طرف رات قریب تر ہوجائے تاکہ خونریزی کے پھیلاؤ اور ہلاکتوں میں اضافے کو روکا جائے گا، مگر یہ کہ دشمن حملہ کر دے اور دفاع کی ضرورت جنگ میں اترنے کا تقاضا کرے۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے عاشورا کی ثقافت کے ساتھ ایرانی قوم کے گہرے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی: ہمارا ملک اور ہماری قوم ایک حسینیؑ قوم ہے اور وہی جذبہ جو سیدالشہداء (علیہ السلام) کی تحریک میں نمایاں ہؤا اور آج بھی اس سرزمین کے لوگوں میں زندہ و جاوید ہے۔
انھوں نے یوم عاشورا کے موقع پر امام حسین (علیہ السلام) کی زندگی کی وضاحت کرتے ہوئے سعید بن عبداللہ حنفی کی قربانی کو ولایت سے وفاداری اور حق کے دفاع کا لازوال نمونہ قرار دیا اور فرمایا: تحریک عاشورا کی ابدیت کا راز سیدالشہداء (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا اخلاص اور جانفشانی ہے جو آج اربعین کے ان گنت زائرین کو اکٹھا کر دیتی ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے شہداء کی یاد میں کانفرنس کے مہمتممین و منتظمین، اہلکاروں، شہداء کے معزز اہل خانہ اور ملک کی سلامتی اور عزت و وقار کے تمام محافظوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے رہبرِ شہیدِ انقلاب کے ساتھ اپنی 70 سالہ دوستی کی تاریخ کا تذکرہ کیا اور فرمایا: ہم اپنے رہبر معظم کے قدردان اور شکر گزار ہیں اور اپنے شہید کے لئے دعاگو ہیں؛ ہمارے یہ پیارے دوست جن کے ساتھ 70 سال قبل ہماری قم میں آمد سے لے کر اب تک ـ عمر کے تھوڑے سے فرق کے باوجود ـ دوستی رہی؛ 70 سالہ دوستی کم نہیں ہے! ایک انسان اپنا 70 سالہ دوست کو کھو دے، تو یہ چھوٹی بات نہیں ہے! اللہ ان سب کو حسین بن علی (علیہما السلام) کے ساتھ محشور فرمائے!
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے قومی سلامتی، امن اور یکجہتی کو ملک کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور فرمایا: خدا نہ کرے، ہم ایسا راستہ اختیار کریں جو اللہ کو پسند نہ ہو۔ اپنے پاکیزہ لبوں سے نفرت بھرے الفاظ کبھی بھی نہ نکلنے دیں۔ اسی لئے اگر کوئی رائے یا منصوبہ ہے تو اسے دوستانہ ماحول میں پیش کرنا چاہئے؛ اس ملک کا انتظام سکون اور سلامتی کے ساتھ چلنا چاہئے، تکہ ہم اس اسلامی نظام کو اس کے اصل مالک ـ امام عصر (علیہ السلام) ـ تک پہنچا سکیں۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی آخر میں، تمام شہدائے اسلام، امامِ شہداء اور آقائے شہید اور ایران کے تمام شہداء بالخصوص شہدائے میناب کے درجات کی بلندی کی التجا کرتے ہوئے دعا کہ خدائے متعال تمام شہداء کو سید الشہداء (علیہ السلام) کے ساتھ محشور کرے اور شہداء کی ماؤں اور اہل خانہ کو اپنے خاص فضل و کرم سے نوازے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ