27 جولائی 2026 - 16:30
مآخذ: ابنا
ایران کے خلاف 13 روزہ حملے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف 13 روز تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں کی افادیت پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ امریکی فوجی حکام نے ان حملوں کی محدود کامیابی کا اعتراف کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف 13 روز تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں کی افادیت پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ امریکی فوجی حکام نے ان حملوں کی محدود کامیابی کا اعتراف کیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر نے آبنائے ہرمز کے اطراف حملے روکنے کی سفارش کی، کیونکہ ان کے بقول یہ کارروائیاں اپنی مؤثر حد تک پہنچ چکی تھیں اور مزید حملوں سے خاطر خواہ نتائج کی توقع نہیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق، جنرل کوپر اور دیگر فوجی و سویلین مشیروں کی بریفنگ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کے خلاف حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔ مشیروں نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی آپشنز کی حدود اور ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا۔

دوسری جانب سی این این نے رپورٹ کیا کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں شدت لانے کے ممکنہ خطرناک اور غیر متوقع نتائج سے خبردار کیا۔

رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے امریکہ کے اسٹریٹجک اسلحہ ذخائر میں نمایاں کمی پر بھی تشویش ظاہر کی، جس کے بارے میں جنگ شروع ہونے سے قبل بھی صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا تھا۔

سینیٹر کرس وان ہولن نے کہا کہ ایران کے ساتھ یہ تنازع ابتدا ہی سے غلط فیصلہ تھا اور دفاعی میزائلوں کے مسلسل استعمال سے نہ صرف امریکی افواج بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں امریکہ کی دفاعی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی اس سے قبل اعتراف کیا تھا کہ یوکرین کی فوجی امداد اور بحیرہ احمر میں یمن کے خلاف کارروائیوں کے باعث امریکی اسلحہ ذخائر کا ایک حصہ استعمال ہو چکا ہے'

رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے باوجود پس پردہ اپنی سفارتی ٹیم کو ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ خلیجی ممالک نے بھی حالیہ مشاورت میں واشنگٹن پر تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha