اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے میزائل اور ڈرون حملے میں اردن میں تعینات دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایک کے لاپتا ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعے کے باوجود ٹرمپ نے اپنے تفریحی اور سیاسی پروگرام معمول کے مطابق جاری رکھے۔
ڈیلی بیسٹ اور دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹس کے مطابق، جس وقت امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، ٹرمپ نیو جرسی کے علاقے بیڈمنسٹر میں واقع اپنے گولف کلب میں کھیل میں مصروف تھے۔ اسی دوران وائٹ ہاؤس نے اپنی پریس بریفنگ کا وقت دو مرتبہ تبدیل کیا، جسے ناقدین نے عوامی ردعمل کو قابو میں رکھنے کی کوشش قرار دیا۔
اس واقعے پر ٹرمپ کا واحد مختصر ردعمل ایک ٹیلیفونک گفتگو میں سامنے آیا، جہاں انہوں نے فوجیوں کی ہلاکت کو صرف "ایک انتہائی افسوسناک واقعہ" قرار دیا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس کی "کوئی پروا نہیں"۔
رپورٹس کے مطابق، فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کے چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے اپنے گولف کلب میں منعقدہ امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی، جہاں وہ دیگر سیاسی شخصیات کے ہمراہ موجود رہے۔
مزید یہ کہ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل ان دنوں مسلسل فعال رہا اور انہوں نے انتخابی قوانین اور روس سے متعلق پابندیوں پر متعدد پیغامات جاری کیے، تاہم ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے لیے تعزیت یا اظہار افسوس کا کوئی پیغام شائع نہیں کیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اگلے روز بھی ٹرمپ اپنے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم پہنچے، جہاں انہوں نے فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل کا مشاہدہ کیا۔
رپورٹس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ مئی میں ٹرمپ نے جنگ کے دوران زخمی ہونے والے متعدد امریکی فوجیوں کی اسپتال میں عیادت بھی نہیں کی تھی، جبکہ پینٹاگون پر ایران کے ساتھ جاری جنگ میں فوجی نقصانات اور زخمیوں کی اصل تعداد کو کم ظاہر کر رہا ہے ۔
آپ کا تبصرہ