اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صوبہ فارس میں رہبرِ انقلاب کے نمائندے اور شیراز کے امام جمعہ آیت اللہ لطف اللہ دژکام نے مسجد الرقیہؑ شیراز میں حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے سورۂ نساء کی آیت 71 کی تشریح کے دوران کہا کہ موجودہ دور میں "ہتھیار" کا مفہوم بدل چکا ہے اور نئی جنگوں کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو جدید دفاعی میدانوں کی تربیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں آمادگی اور دفاع کا جذبہ دو نسلوں سے مسلسل پروان چڑھ رہا ہے اور ہمیں ہر وقت اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ظہورِ حضرت امام مہدیؑ کے وقت ہم اپنی آمادگی کا اعلان کر سکیں۔
آیت اللہ دژکام نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حالیہ دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نماز جمعہ کے خطبے میں نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تم نے ایران کے قریب آنے کی کوشش کی تو پوری ایرانی قوم ہتھیار اٹھا لے گی، اور جو بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا طاقت کی بنیاد پر چل رہی ہے، جہاں انسانی حقوق اور منطق کی کوئی حقیقی حیثیت باقی نہیں رہی۔ ان کے بقول، اگر ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے تو اسے اپنی دفاعی طاقت پر انحصار کرنا ہوگا اور پوری قوم کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
شیراز کے امام جمعہ نے بندر عباس اور سرحدی علاقوں سے متعلق دشمن کے میڈیا پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نفسیاتی جنگ کے ذریعے ایرانی عوام کے حوصلے پست کرنا چاہتا ہے، لیکن مسلح افواج اور عوام پوری استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ کسی سڑک یا پل کو نشانہ بنا کر ایران کی نقل و حرکت روک سکتا ہے، حالانکہ ایرانی عوام اپنے ملک کے چپے چپے سے واقف ہیں اور ایسی کارروائیاں ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
آپ کا تبصرہ