20 جولائی 2026 - 16:37
پہلی قسط | ایران کی نئی حکمتِ عملی؛ امریکہ کی جنگی مشین پر ضرب + تصاویر

ایران کے حالیہ حملے پچھلی کارروائیوں کے مقابلے میں مختلف نمونہ پیش کر رہی ہیں۔ یہ کارروائیاں گذشتہ طریقۂ کار کے برعکس، صرف جنگی سازوسامان کو نشانہ بنانے پر مرکوز نہیں تھیں، بلکہ ان حملوں میں رسد کے بنیادی ڈھانچے، کمانڈ سینٹروں اور سپورٹ نیٹ ورکس پر حملے کا ایک آمیزہ استعمال کیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے حالیہ حملے پچھلی کارروائیوں کے مقابلے میں مختلف نمونے کی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں گذشتہ طریقۂ کار کے برعکس، صرف جنگی سازوسامان کو نشانہ بنانے پر مرکوز نہیں ہیں، بلکہ ان حملوں نے رسد کے بنیادی ڈھانچے، کمانڈ سینٹرز اور سپورٹ نیٹ ورک پر حملے کا ایک آمیزہ استعمال کیا؛ یہ تبدیلی جس کا مغربی حکام اور تجزیہ کاروں نے بھی تذکرہ کیا ہے اور اسے ایران کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں تبدیلی کی علامت قرار دیا ہے۔

سپورٹ سائیکل پر ضرب؛ انسداد-پائیداری (Counter-Sustainment) حکمتِ عملی

ایران نے قطر کے العدید ایئر بیس پر امریکی فضائیہ کے پرزہ جات اور رسد کے مرکزی گوداموں کو تباہ کر دیا، بحرین میں BattleGo مصنوعی ذہانت کے کمانڈ اور ڈیٹا مائننگ سنٹر کو نشانہ بنایا؛ فضا میں ایندھن فراہم کنے والے ایئر ٹینکروں ، اسٹراٹیجک ٹرانسپورٹ اور آواکس طیاروں کے مخصوص ریمپ خالی کرنے پر مجبور کیا؛ اور یہ ایک ایسی حکمتِ عملی پر عمل ہے جسے فوجی ادب میں Counter-Sustainment  یا "سپورٹ سائیکل اور جنگی قوت کی پیداوار پر ضرب" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پہلی قسط | ایران کی نئی حکمتِ عملی؛ امریکہ کی جنگی مشین پر ضرب + تصاویر

پہلی قسط | ایران کی نئی حکمتِ عملی؛ امریکہ کی جنگی مشین پر ضرب + تصاویر

پہلی قسط | ایران کی نئی حکمتِ عملی؛ امریکہ کی جنگی مشین پر ضرب + تصاویر

پہلی قسط | ایران کی نئی حکمتِ عملی؛ امریکہ کی جنگی مشین پر ضرب + تصاویر

لاجسٹک صلاحیت کی تباہی طیاروں کی تباہی سے زیادہ اہم ہے، مگر کیوں؟

اس نقطہ نظر میں، بنیادی ہدف براہِ راست ہوائی جہازوں کو تباہ کرنا نہیں؛ بلکہ اس لاجسٹک چین (chain) کو نشانہ بنانا ہے جو ان ہوائی جہازوں کے مسلسل استعمال کو ممکن بناتی ہے اور انہیں پرواز کرنے کے قابل بناتی ہے۔

جدید جنگوں میں، محض طیاروں کی تعداد فیصلہ کن نہیں ہوتی، بلکہ مرمت، پرزہ جات کی فراہمی، ایندھن رسانی، کمانڈ اور تیز رفتار معلومات کی منتقلی کی صلاحیت ہی جنگی قوت کی حقیقی سطح کا تعین کرتی ہے۔

العدید ایئربیس؛ سینٹ کام کا لاجسٹک 'دل'

العدید بیس امریکہ کے سینٹ کام خطے کے اہم ترین آپریشنل مراکز میں سے ایک تھا۔

اس بیس میں ایندھن بھرنے، ٹرانسپورٹ طیارے، آواکس طیارے، تکنیکی دیکھ بھال اور رسد کے آلات اور وسائل کی بڑی مقدار مرتکز تھی چنانچہ یہ ایئربیس اعلیٰ کارکردگی دکھا رہا تھا، لیکن اسی کارکردگی نے اس ایئربیس کو ایک خطرناک اور زدپذیر مقام بھی بنا دیا تھا۔ اس مرکز پر ضرب نے امریکہ کو اپنے سپورٹ نیٹ ورک کا ایک حصہ ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کیا۔

پرزہ جات کے مرکزی گودام کی تباہی، صرف زمین پر کھڑے ایک بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں تھی؛ بلکہ اس تباہی نے امریکی طیاروں کی کی اوورہالنگ اور مرمت اور دوبارہ سروس میں واپسی کے چکر پر دباؤ ڈالا۔ پرزہ جات کی فراہمی میں قلت اور مرمت کے دورانئے میں اضافے نے براہِ راست بیڑے کی جنگی تیاری کی کارکردگی کی شرح کو متاثر کیا۔

اس کے ساتھ، کمانڈ اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مائننگ سنٹر کو نشانہ بنانے سے معلومات کی پروسیسنگ کی رفتار، یونٹوں کے درمیان ہم آہنگی اور آپریشنل فیصلہ سازی کے چکر میں کمی آئی۔

العدید ایئربیس کے ریمپوں سے KC-135، KC-46، C-17 اور آواکس طیاروں کے انخلاء کی سیٹلائٹ تصاویر بھی امریکہ کے آپریشنل آرڈر (عملیاتی ترتیب) میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ نقل مکانی Force Dispersal پالیسی اور 'پھرتیلی جنگی تعیناتی' (Agile Combat Employment) کے نظریئے کے دائرے میں کی گئی ہے، لیکن اس کی بنیادی وجہ 'مرتکز اڈوں کے خلاف بڑھتا ہؤا خطرہ اور اسٹریٹجک اثاثوں کی زدپذیری کو کم کرنے کی ضرورت' ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: مہدی طلوع وند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha