ٹرمپ ان ٹربل
-
ٹرمپ ان ٹربل؛
سات ناکام رائے شماریوں کےبعد، ٹرمپ کی جنگجوئی کے خلاف قرارداد منظور
امریکی سینٹ نے سات ناکام کوششوں کے بعد، ایک قرارداد منظور کر لی جو ایران کے خلاف فوجی حملے جاری رکھنے کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرتی ہے۔
-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی-صہیونی جارحیت سے متعلق مختصر اور اہم خبریں
سعودیہ: تیل کی کم پیداوار کا ریکارڈ قائم / ٹرمپ کی شکست فاش کرنے والے صحافی ان ٹربل / آبنائے ہرمز پر امریکی قراداد پر ایران کا رد عمل / امریکہ اور اسرائیل تفریح کے لئے انسان قتل کرتے ہیں، بقائی / امریکی سینٹ میں ایران جنگ کے خاتمے کی رائے شماری ساتویں مرتبہ ناکام! / ورلڈ کپ کے لئے جانے والی قومی فٹبال ٹیم کی پرجوش وداعی تقریب اور جنرل مجید موسوی کا پیغام / جنگ کے لئے تیار ہیں اور دشمن کو حیران کر دیں گے، قالیباف / قیمتیں کنٹرول کرنے کے لئے ٹرمپ کے اقدامات / قدرتی گیس کا دوسرا قطری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گذر گیا / ایک ارب بیرل تیل ہوا ہو گیا، آرامکو / جنگ سے بدعنوان امریکی صدر کی کمائی! / ایرانی آئل ٹینکرز نے پھر بھی امریکی ناکہ بندی توڑ دی / امریکہ کو شکست دینے کا سبق دوستوں کو بھی سکھائیں گے، ایرانی وزارت دفاع / دوسری دلدل: نیتن یاہو لبنان میں!
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
امریکہ نے ایران کے 12 سال کا بجٹ 40 روزہ جنگ پر خرچ کیا! سی این این / قواعد بدلنے کا وقت ہے، ممدانی + کارٹون
سی این این کا کہنا ہے کہ ایران جنگ پر خرچ کی گئی رقم 29 ارب ڈالر نہیں بلکہ 1000 ارب ڈالر ہے۔ / نیویارک کے میئر نے افراط زر اور مہنگائی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ قواعد بدلنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
تہران کے جوابات، ٹرمپ کو دیوانہ کیوں کر دیتے ہیں؟
امریکہ اپنے مسودے پر ایران کے جواب سے سخت ناراض ہے؛ لیکن حقیقت کیا ہے؟ ایران نہ صرف اپنا 400 کلو 60 فیصد یورینیم حوالے نہیں کرتا، بلکہ امریکی جرائم کا معاوضہ، 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی آزادی اور سمندری ڈکیتی کی امریکی پالیسی کے خاتمے کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کی پیشگی شرط قرار دیتا ہے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
نیویارک ٹائمز کا انکشاف، ٹرمپ کا المیہ / تین میزائل اڈوں پر حملے؛ 30 ارب ڈالر اڑا دیئے! + کچھ نکتے
یہ ایک اہم اور قابل غور نکتہ ہے کہ یہ جو مغربی ذرائع کہتے ہیں کہ ایران کے اتنے فیصد ذخائر خرچ ہوئے ہیں اور اتنے فیصد رہ گئے ہیں، یہ سب اندازے اور تخمینے ہیں جن کی کوئی معلوماتی بنیاد نہیں ہے۔ اصولی طور پر ایران کے اسلحے کے ذخائر کی مقدار سوا متعلقہ فوجی حکام کے، کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ اور پھر ایران میں جنگ کے دوران جہاں اسلحہ دشمن کے خلاف استعمال ہو رہا ہوتا ہے، وہاں مزید اسلحہ بن بھی رہا ہوتا ہے، چنانچہ ان تخمینوں اور اندازوں کو وقعت دینا معقول نہیں ہے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
کارٹون | ٹرمپ کا دورہ چین
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹرمپ نے قبل ازیں آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے چین کی طرف بھیک کا ہاتھ پھیلایا مگرجواب نہ ملا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس دورے میں ـ اس سلسلے میں ـ وہ کیا چین سے مدد حاصل کر سکتا ہے، جبکہ ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تزویراتی معاہدہ برقرار ہے اور چین کو آبنائے ہرمز کی بندش سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے، بلکہ ایران اس کو دنیا کا نمبر 1 بننے میں مدد بہم پہنچا رہا ہے۔
-
وعدہ صادق-4؛
امریکہ کے اندر سے ٹوٹ پھوٹ
دہشت گرد ٹرمپ انتظامیہ کے انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر "جوزف کینٹ" نے کہا: "بہت زیادہ غور و فکر کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا اور یہ استعفیٰ آج سے نافذ العمل ہے۔"
-
ٹرمپ ان ٹربل؛
اس فیصلے سے ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں پر کیا اثر پڑے گا؟
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے عالمی ٹیرف ( محصولات ) کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ نے 1970 کی ہنگامی قانون (IEEPA) کا غلط استعمال کرتے ہوئے ٹیرف عائد کیے تھے، جبکہ ٹیکس لگانے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے ۔
-
ٹرمپ کی ایک ناکامی اور؛
فی الحال اسرائیل کے ساتھ مصالحت ممکن نہیں ہے، محمد بن سلمان
ایک باخبر امریکی ذریعے کا کہنا ہے کہ سعودی ولیعہد اس وقت صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات معمول پر لانے کو مسترد کر دیا ہے۔
-
ایک شلطنت کا زوال؛
سوشل میڈیا کے صارفین ٹرمپ کے بےبسی کے پیغام پر کہا: "روؤ ٹرمپ!" + تصاویر
امریکی صدر نے ہندوستان کے خلاف اپنے محاصل (ٹیرف) کے ذریعے اپنے روایتی حریف چین کے لئے میدان کھول دیا، جس کی وجہ سے نئی دہلی بیجنگ کے قریب چلا گیا۔ مغربی صارفین نے ان واقعات کے جواب میں لکھا: "روؤ ٹرمپ!"
-
ٹرمپ ان ٹربل؛
واشنگٹن: ٹرمپ کو بیک وقت عالمی اور داخلی محاذ پر چیلنج و مسائل کا سامنا
صدر ٹرمپ کو بیک وقت عالمی اور داخلی محاذ پر بھی چیلنج و مسائل کا سامنا ہے، اور یہ صورت حال درمیانی مدت کے انتخابات میں ان کے لئے ناموافق صورتحال کا باعث بن سکتی ہے۔