بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ نیویارکر کے مضمون "ایران کے مقابلے میں امریکی فوجی طاقت کی ناکامی" کا خلاصہ درج ذیل ہے:
ہفتہ وار امریکی رسالے نیویارکر کے تجزیہ کار رابین رائٹ کے مطابق، امریکہ ایران کے خلاف اپنی جنگ میں فوجی برتری کے باوجود راہنما اصولوں سے محرومی اور غیر واضح اور غیر یقینی سیاسی اہداف کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہے۔

اہم نکات:
1۔ بنیادی مسئلہ:
• امریکہ کے پاس فوجی طاقت تو ہے مگر اس کا استعمال کیسے کیا جائے، اس کے لئے اس کے پاس کوئی منظم حکمت عملی نہیں ہے۔
• جنگ کا کوئی واضح سیاسی مقصد طے نہیں پایا ہے، جس کی وجہ سے اہداف بدلتے رہتے ہیں (جوہری پروگرام، فوجی کمزوری، علاقائی اثر، حکومت کی تبدیلی اور آخر مذاکرات اور فوجی اہداف کی آبنائے ہرمز کھولنے تک تنزلی)۔

2۔ فوجی طاقت کی حدود:
• عراق اور افغانستان میں امریکی مہمات اور تجربات بتاتے ہیں کہ فوجی کامیابی کا مطلب سیاسی کامیابی ہرگز نہیں ہے۔
• ایران کا ڈھانچہ اور جیوپولیٹیکل حیثیت ایسی ہے کہ جس کو فوجی دباؤ نہیں بدل سکتی۔ یہ فوجی طاقتوں کے سامنے غیر زدپذیر (Invulnerable) ملک ہے۔

3۔ آبنائے ہرمز کا عنصر:
اس اہم آبی گذرگاہ پر ایران کا کنٹرول عالمی تیل کی قیمتوں، اقتصادی عدم استحکام اور بین الاقوامی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

4۔ امریکی اندرونی مشکلات:
طویل جنگ سے امریکی معیشت پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے، ایران کے خلاف جنگ ایک غیر مقبول جنگ ہے اور اس کو امریکی رائے عامہ کی حمایت حاصل نہیں ہے، چنانچہ اس سے امریکی حکومت کی حمایت ہو رہی ہے اور اس کے سیاسی-سماجی سرمائے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

نتیجہ:
نیویارکر کا کہنا ہے کہ حقیقی کامیابی فوجی کارروائیوں میں نہیں، بلکہ فوجی طاقت کو ایک پائیدار سیاسی حل میں بدلنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ ٹرمپ اس صلاحیت سے محروم ہے، اس لئے وہ ایک طویل، مہنگی اور فرسودہ کر دینے والی جنگ میں پھنس گیا ہے جس کا کوئی واضح انجام نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ