اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،یمن کی تحریک انصار اللہ کے رہنماؤں نے سعودی عرب اور امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریاض نے امریکہ کی حمایت اور یمن کے خلاف پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو آنے والے دنوں میں اسے نئے اور غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے کہا کہ صنعاء اور دیگر صوبوں میں لاکھوں افراد کی ریلیاں یمنی عوام کی قیادت پر اعتماد اور محاصرے کے خاتمے کے مطالبے کا اظہار ہیں۔ ان کے مطابق یمنی عوام اپنے حقوق کے حصول اور ملک پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ اور سعودی عرب یمن کے خلاف جارحیت اور محاصرے کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ یمنی عوام مزاحمت کے راستے پر ثابت قدم ہیں۔
دوسری جانب انصار اللہ سے وابستہ سرکاری خبر رساں ادارے کے چیئرمین نصرالدین عامر نے کہا کہ عوامی مظاہروں نے قیادت کو آئندہ اقدامات کے لیے واضح عوامی حمایت فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں سعودی پالیسیوں کے جواب میں نئی حکمت عملی اختیار کی جائے گی، جس میں "محاصرہ کے بدلے محاصرہ، ہوائی اڈے کے بدلے ہوائی اڈہ اور بندرگاہ کے بدلے بندرگاہ" جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سعودی عرب نے یمن کا محاصرہ ختم نہ کیا اور یمنی عوام کے حقوق بحال نہ کیے تو آنے والے دنوں میں ایسے اقدامات سامنے آئیں گے جو دشمنوں کے لیے غیر متوقع ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ