15 جولائی 2026 - 17:35
شیخ غازی حنینہ کا بیان: رہبرِ شہید انقلاب اسلامی سے پہلے بھی وحدتِ امت کے علمبردار تھے

بیروت: لبنان کی "تجمع علمائے مسلمین" کی مجلسِ امناء کے سربراہ شیخ غازی حنینہ نے کہا ہے کہ رہبرِ شہید انقلاب اسلامی، آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ، اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل ہی امتِ مسلمہ کے اتحاد کے علمبردار تھے اور اپنی پوری قیادت کے دوران بھی وحدتِ اسلامی کو فروغ دیتے رہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی "تجمع علمائے مسلمین" کی مجلسِ امناء کے سربراہ شیخ غازی حنینہ نے رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی عظیم الشان اور تاریخی تشییع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے پہلے ہی وحدتِ اسلامی کے داعی تھے۔ انہوں نے اس کی دلیل یہ بیان کی کہ آیت اللہ خامنہ ایؒ نے سید قطب کی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ، تدوین اور اشاعت کر کے نوجوانوں میں اسلامی بیداری اور اتحاد کا شعور اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت سنبھالنے کے بعد بھی رہبرِ شہید کی تمام تقاریر کا مرکزی موضوع امتِ مسلمہ کا اتحاد رہا۔ آپ ہمیشہ مسلمانوں کو وحدت کی دعوت دیتے رہے اور اسی وحدت بخش فکر نے فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

شیخ غازی حنینہ نے اسلامی تہذیب کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی تہذیب عقیدہ، ثقافت، اعلیٰ اخلاق، انسانی اقدار اور ایسی شریعت پر قائم ہوتی ہے جو عدل، مساوات اور حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ ان کے مطابق ان خصوصیات کی حامل مکمل تہذیب صرف اسلامی تہذیب ہے، کیونکہ اسلام ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات پیش کرتا ہے جو انسان کو اعلیٰ ترین اخلاقی و روحانی مقام تک پہنچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تہذیب اگر قوتِ دفاع سے محروم ہو تو کمزور ہو جاتی ہے اور استکباری طاقتیں اس پر غلبہ حاصل کر لیتی ہیں۔ اسی لیے قرآن کریم نے مسلمانوں کو دشمن کے مقابلے کے لیے ہر ممکن طاقت تیار رکھنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ دشمن طاقت کی زبان کو سمجھتا ہے، نہ کہ صرف گفت و شنید کو۔

لبنانی عالم دین نے کہا کہ امام خمینیؒ اور ان کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ نے اسلامی تہذیب کے تصور کو قوت، آمادگی اور دفاعی صلاحیت کی بنیاد پر عملی شکل دی۔ ان کے مطابق اسی فکر کا ایک اہم ثمر "محورِ مقاومت" کا قیام ہے، جو لبنان، فلسطین، عراق اور یمن تک پھیل چکا ہے اور جس نے امریکی و صہیونی منصوبوں کو ناکام بنانے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

شیخ غازی حنینہ نے مزید کہا کہ محورِ مقاومت کی بنیادی ذمہ داری فلسطین، لبنان، عراق، یمن اور ایران میں حق کا دفاع، مشروع حقوق کے تحفظ کے لیے قربانی دینا اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج فلسطین میں عظیم قربانیاں دی جا رہی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کے اس فرمان کے مطابق کہ "فلسطین دنیا میں تبدیلی کی کنجی ہے"، یہ جدوجہد بالآخر امتِ مسلمہ کی کامیابی پر منتج ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha