اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، 50 انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سال 2025 کے آغاز سے اقوام متحدہ، شامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس اور دستاویزات سے شام کے مختلف علاقوں میں خواتین اور بچیوں کے اغوا اور لاپتا ہونے کے واقعات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ان واقعات کو پیشہ ورانہ، آزاد اور شفاف تحقیقات کے بغیر خاندانی تنازعات یا متاثرہ افراد کی رضاکارانہ گمشدگی قرار دینا درست نہیں۔ تنظیموں کے مطابق کسی بھی نتیجے پر پہنچنے کے لیے عدالتی شواہد اور متاثرہ افراد سے محفوظ اور آزاد ماحول میں گفتگو کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان واقعات میں اضافے کے باعث خواتین اور بچیوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی سماجی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں شرکت محدود ہو رہی ہے، جبکہ سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہو رہا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں الزامات بااثر شخصیات یا سکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد پر عائد کیے جاتے ہیں۔
بیان پر دستخط کرنے والی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مقدمات کی سنجیدہ تحقیقات، ذمہ دار عناصر کا احتساب اور انہیں سزا سے استثنا نہ ملنے کو یقینی بنانا، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے شامی حکومت کے عزم کا اہم امتحان ہوگا۔
آپ کا تبصرہ