14 جولائی 2026 - 22:19
خلیج فارس میں شطرنج کا کھیل؛ ایران کو معاہدے کی جلدی نہیں ہے، مگر کیوں؟

ایمسٹرڈم یونیورسٹی کے استاد ولندیزی فلسفی اور ولندیزی حکومت کی سائنسی پالیسی ساز کونسل کے رکن ڈاکٹر پروفیسر ہارون شیخ نے آبنائے ہرمز میں امریکی جارحیتوں اور ایرانی مقاومت کے بارے میں کیا ہے؟ / ہم بھی عرصے سے جانتے تھے کہ اگر اگر ایران گھٹن محسوس کرے تو اس کا ترپ کا پتہ [اور دباؤ کا اصل اوزار] یہی ہوگا۔ وہ نکتہ جو بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ایکٹر کو ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنا کرتے ہوئے ملحوظ رکھنا چاہئے یہ ہے کہ اس کو سمجھا لے کہ اسے کوئی بھی رعایت نہیں دی جائے گی اور اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا؛ یہ وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر اس شخص سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

میزبان: وہ رائے عامہ سے کھیلنے کا عمل بہت اچھی طرح آگے بڑھاتے ہیں۔ امریکیوں نے دل ہی دل میں سوچا کہ وہ جاکر وہا وینزویلا والا منظرنامہ نافذ کریں گے؛ دو روز تک جنگ ہوگی اور وہ [ایرانی] گر جائیں گے! تاہم، ایرانیوں کو بھی فطرتا مکمل احتیاط کے ساتھ قدم اٹھانا چاہئے۔ کیونکہ اگر وہ تمام پائپ لائنیں ترکیہ اور بحیرہ احمر کی طرف کھینچ لی جائیں گی، اس صورت میں ان کی طاقتور پوزیشن بھی اس خطے میں ختم ہو جائے گی؛ اور آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اچانک ختم ہوجائے گی۔

- ایمسٹرڈم یونیورسٹی کے پروفیسر ہارون شیخ: طویل مدت میں، ممکن ہے کہ یہ آبنائے کسی حد تک کمزور ہو جائے لیکن اس پر برسوں کا وقت لگے گا۔ علاوہ ازیں یہ خطہ کسی طرح سے بھی ایک آسان علاقہ نہیں ہے۔

دیکھئے امریکیوں کی کوشش ہے کہ پائپ لائن کو متبادل کے طور پر متعارف کرائے؛ لیکن اس صورت میں اس کو شام جیسے علاقوں سے گذرنا پڑے گا جو امن و سلامتی کے لحاظ سے کچھ زیادہ مختلف نہ ہوگا۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ وہ فی الحال اپنی اس پوزیشن کو بحال و برقرار رکھیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں خود ایرانیوں کا تجزیہ بھی یہی ہوگا۔

وہ فی الحال بارگیننگ کے لئے ایک زبردست اوزار کے مالک ہیں۔ چنانچہ وہ ایک تیز رفتار سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف سے وہ اس ادراک تک پہنچے ہیں کہ امریکیوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دو مرتبہ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کئے لیکن واشنگٹن نے عین مذاکرات کے موقع پر ایران پر حملہ کیا۔

چنانچہ اگر ایران سادگی کی رو سے یہ تصور کرے کہ ایک بار پھر مذاکرات میں داخل ہوگا، تو کون جانے کہ امریکہ دوبارہ عہدشکنی نہیں کرے گا (اور دوبارہ جارحیت نہیں کرے گا)۔

لہذا میری رائے یہ ہے کہ یہ ایرانی حکومت کی طرف سے ایک اٹل حکمت عملی ہے: ہمیں امریکہ پر بھاری اخراجات مسلط کرنا پڑیں گے؛ تاکہ وہ کسی بھی قسم کے نئے اقدام سے پہلے دو مرتبہ سوچ لے۔

- میزبان: یہ بالکل اسی واقعے کی مانند ہے جو شمالی کوریا کے معاملے میں دیکھا گیا؛ جہاں ٹرمپ 'میزائل مین' کا عنوان اختیار کرکے بہت غنڈہ گردی کے ساتھ برتاؤ کرتا تھا؛ لیکن وہ اچانک اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کو یہ معاملہ اپنے حال پر چھوڑنا چاہئے؛ جس کے بعد کوئی بھی شمالی کوریا کے بارے میں بات نہیں کرتا؛ حالانکہ وہ وہ ایک ایک جوہری اور خطرناک ملک ہے۔

- پروفیسر ہارون شیخ: ایرانیوں کو بھی درحقیقت امید ہے کہ امریکی ان کے حوالے سے بھی معاملے کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔

دیکھئے، ڈونلڈ ٹرمپ۔۔۔ میرے خیال میں اس کی پالیسیاں آگے بڑھانے کی روش بالکل واضح ہے! وہ ایک موقع پرست شخص ہے اور جہاں بھی محسوس کرتا ہے کہ کامیابی کا امکان ہے، وہاں سرمایہ کاری کرتا ہے۔

وہ اپنی صدارت کے پہلے دور میں واقعی سوجھتا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے مقابلے میں بالادستی رکھتا ہے؛ چنانچہ پہلی بار کیم جونگ اون کی ملاقات کے لئے گیا۔۔۔ وہی میزائل مین۔ ایک بڑی نمائش لگ گئی لیکن بالکل لاحاصل، کچھ بھی حاصل نہیں کر پایا۔

وہ مزید اس واقعے کے بارے میں بات تک نہیں کرتا؛ کیونکہ جان گیا کہ چارسالہ کشمکش سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ایکٹر کو ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنا کرتے ہوئے ملحوظ رکھنا چاہئے: "آپ کو اسے یہ سمجھانا پڑے گا کہ کوئی اسے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی [اور اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ [یوں وہ آپ کو اپنے حال پر چھوڑے گا شمالی کوریا کے صدر کی طرح]۔

میزبان: آپ کے بارے میں مسٹر ہارون، دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ ایک عرصے تک مصروف رہو گے، کیونکہ میرے خیال میں یہ صورت حال جاری رہے گی اور یہ بحران عنقریب حل نہیں ہونگے۔

دنیا بدستور بے چین رہے گی۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہو اس لمحے تک، مسٹر پروفیسر ڈاکٹر ہارون۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha