بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے ایران کی سربلند و سرخرو قوم اور امامِ شہیدِ امت (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیَّۃَ) کی تشییع کے مراسمات کے منتظمین کو خراج تحسین پیش کرنے اور اظہار تشکر کے لئے ایک پیغام جاری کیا۔
پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾
"یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ (کی پھونکوں ) سے اللہ کے نور کو بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو اچھا نہ لگے۔"
(سورہ صف، آیت 8)
دشمنت کشت ولی نور تو خاموش نشد
آری آن جلوه که فانی نشود، نور خداست
تیرے دشمن نے مار ڈالا تجھے، لیکن روشنی تیری نہ بجھی
ہاں! وہ جلوہ جو کبھی نہ بجھے، اللہ کا نور ہے
امامِ شہیدِ امت کا عظیم حماسۂ وداع، تشییع اور شاندار رخصتی، ایمان کا احیاء، وفاداری کی اٹھان، عاشورائی ثقافت کے ساتھ تجدیدِ عہد اور ایک ایسی قوم کے عزم کا مظہر تھی جس نے ثابت کیا کہ وہ اپنے امام و قائد کا پاک خون، مشن کا اختتامی نقطہ نہیں، بلکہ عزت و عظمت، استقامت اور محاذ حق کی بالیدگی کے ایک نئے باب کا آغاز سمجھتی ہے۔
میدان میں عوام کے مختلف طبقوں کی حیرت انگیز موجودگی نے نہ صرف دنیا بھر کی نگاہوں کو ایران کی قوم کی ولایت پذیری، بصیرت اور استقامت کی عظمت پر حیران اور تحسین پر مجبور کیا، بلکہ یہ استکبار کے خلاف ایک ایسی قوم کی جدوجہد کا مظہر تھی جو عاشورا کے مکتب میں پروان چڑھی ہے۔
یہ عظیم حماسہ، امامِ شہیدِ امت کی خونخواہی کی پکار کی پُرجوش آفاقی گونج تھی۔ ایک ایسی پکار جو ایمان اور دینی غیرت کی گہرائیوں سے اٹھی، اسلام، انقلاب اور محاذ مقاومت کے دشمنوں کے کھوکھلے رعب و دبدبے پر لرزہ طاری کر دیا اور ایک بار پھر اس حقیقت کو ثابت کیا کہ شہادت، مجاہدوں کے مشن کا اختتام نہیں، بلکہ عزت، طاقت اور محاذ حق کی بالیدگی کے نئے باب کا آغاز ہے۔
ایرانی اور عراقی قوموں کی طرف سے کروڑوں شہریوں کا عاشقانہ وداع اور تشییع کا واقعہ، تاریخ کا ایک عدیم المثال واقعہ تھا جس نے ایک بار پھر ایک تابندہ حقیقت سے پردہ اٹھایا اور ولایت اور عوام کے درمیان محبت کی انتہا کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔ ایک ایسا واقعہ جس نے امیرالمومنین (علیہ السلام) کے منہج پر اسلامی حکمرانی اور حکمرانی کے دیگر مکاتب فکر کے درمیان فرق کو بخوبی واضح کر دیا۔ ولایت فقیہ یعنی یہ کہ آپ 47 سال حکمرانی کے بعد اپنی قوم کے آنسوؤں کے سمندر کے ساتھ رخصت ہو جائیں۔ ولایت فقیہ یعنی کہ آپ 47 سال حکمرانی کے بعد اپنے وسیع و عریض ملک میں ایک میٹر زمین کے مالک بھی نہ ہوں؛ اور اس کے بدلے عوام کے اربوں دلوں کے مالک بن جائیں اور اس عظیم واقعے میں ایسے حیران کن اور غیر معمولی معارف و تعلیمات پوشیدہ ہیں؛ جنہیں اخذ کرنے کے لئے برسوں تک دانشوروں کو کام کرنا پڑے گا اور یہ معارف راہنما اور چراغ راہ ثابت ہوں گے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی انتہائی شکر و امتنان کے ساتھ، اسلامی ایران کی عظیم، با بصیرت، ثابت قدم اور ہمیشہ میدان میں حاضر قوم، ملکی عہدیداروں، ذمہ داران اور منتظمین کے حضور اپنے تشکر اور تعظیم کا اظہار کرتی ہے، جنہوں نے درست منصوبہ بندی، دانشمندانہ انتظام، اچھی تدبیر، جہادی جذبے اور شب و روز کی محنت سے امامِ شہیدِ امت سے وداع اور ان کی تشییع اور تدفین کے مراسمات کے شاندار، منظم، پرامن اور باوقار انعقاد کے لئے راستہ ہموار کیا۔
ایک ایسی قوم جس نے دشمن شکن موجودگی کے ساتھ اپنے اتحاد، عزت، استقامت اور اسلامی اور انقلابی کے اہداف اور شہداء کے پاک خون سے وفاداری کا پیغام دنیا والوں تک پہنچایا اور ثابت کیا کہ کوئی دھمکی، جرم اور سازش، اسلام، ایران اور محاذ مقاومت کے دفاع میں، ان قوموں کے عزم و استقلال کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ یقیناً یہ عظیم خدمت، راہِ خدا میں جہاد اور اسلام اور انقلاب اسلامی کی خدمت کے قیمتی ذخائر میں شمار ہوگی۔
علاوہ ازیں ہم عراق کی برادر، مومن، مجاہد اور وفادار قوم کے عہدیداروں، ذمہ داران اور قوم کے تئیں اپنی گہری شکرگزاری اور تشکر کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ کے شہروں میں امامِ شہیدِ امت کی تشییع کی رسومات میں وسیع، پرجوش، حماسی اور تاریخی موجودگی کے ذریعے ایک بار پھر ایران اور عراق کی دو مسلمان قوموں کے ناقابلِ جدائی رشتے اور محاذ مقاومت کے اتحاد کو دنیا والوں کے سامنے آشکار کیا۔
یہ شاندار حاضری، امامِ مجاہدِ شہید کے راستے کے ساتھ ایک تجدیدِ عہد کا اعادہ، امت اسلامیہ کے اہداف سے وفاداری کا اعلان اور ایک ایسی امت کے اتحاد کا مظہر تھی جو برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ، سچائی اور بھائی چارے کے ساتھ سرخ حسینی پرچم کے سائے تلے کفر و استکبار کے محاذ کے مد مقابل پہاڑ کی طرح مضبوطی اور استواری کے ساتھ جم کر کھڑی ہے۔ امامِ شہیدِ امت کا پاک خون، بیداری، عزت، طاقت اور امت اسلامیہ کی ہم آہنگی کے ایک چشمۂ جوشاں میں تبدیل ہو گیا اور آزاد قوموں کے عزم کو یہ تابناک راستہ جاری رکھنے کے لئے پختہ تر کرے گا اور دشمنوں کو شکست، تنہائی اور پشیمانی سے بھرپور مستقبل کے قریب تر لے جائے گا۔
امریکہ کے جرائم پیشہ سرغنے اور انقلاب اسلامی اور محاذ مقاومت کے تمام دشمنوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس الٰہی قائد کے بزدلانہ قتل کے ذریعے وہ کبھی بھی الٰلہ کے نور کو بجھا نہیں سکیں گے، مؤمن قوموں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکے گا، اور مقاومت و مزاحمت کا پرچم زمین پر گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
امامِ شہیدِ امت کے پاک خون نے پوری دنیا کے حریت پسندوں پر ایک ابدی عہد عائد کر دیا ہے اور شہداء کی خونخواہی اور اس جرم کے عاملین، حکم دینے والوں اور حامیوں کی سزا، ایک قطعی، جائز اور فراموش نہ ہونے والا مطالبہ رہے گا۔ یہ مطالبہ، انصاف کے مکمل نفاذ اور مجرموں ـ خصوصاً طفل کُش امریکی فوج کو مناسب جواب دینے تک، ـ امت اسلامیہ اور محاذِ مقاومت کے تاریخی یادداشت (historical memory) سے مٹایا نہیں جا سکے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی دیگر بہادر مسلح افواج کے ہمراہ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے، کمانڈر انچیف حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (مد ظلہ العالی) کی کمان میں، ایران کی عظیم اور مبعوث قوم اور محاذ مقاومت کے تمام مجاہدوں کے ساتھ مل کر، طاقت، استعداد، چوکسی، ہوشیار اور پختہ عزم کے ساتھ، امامِ شہیدِ امت کا پرافتخار مشن جاری رکھے گی۔
یقیناً عزیز امامِ شہیدِ امت کا پاک خون، قوموں کی بیداری اور عزت و عظمت، آزادی اور سالمیت و خودمختاری اور حریت کے مشن کے امتداد کے لئے ایک ابدی سرمایہ ہے۔ ایک ایسا راستہ جو شہداء کے پاک خون کی قربانی سے روشن ہؤا ہے اور آزاد قوموں کے ایمان اور الٰہی مشن کی پابندی کے ساتھ جاری رہے گا اور کوئی طاقت اس راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکے گی۔ مستقبل حق کے محاذ کے لئے ہے؛ اور مؤمنین کی نصرت اور مستکبرین کی شکست کے بارے میں الٰہی وعدہ ایک ناقابلِ تخلف حقیقت ہے۔
﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے-" (سورہ یوسف، آیت 21)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ