اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ترکیہ میں ایرانی سفارت خانے نے انقرہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے انہیں سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
سفارت خانے کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران ایک ذمہ دار ملک اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن ہے، اور اس نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ جوہری ہتھیار اس کے دفاعی نظریے کا حصہ نہیں ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے ہمیشہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی برقرار رکھنے اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔
ایرانی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکراتی عمل کو ایران نے نہیں بلکہ امریکہ اور "اسرائیلی حکومت" نے نشانہ بنایا، جنہوں نے سفارت کاری کے بجائے جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ نیٹو، جس نے ایرانی عوام کے خلاف جارحانہ اقدامات کی حمایت کی اور انہیں آسان بنانے میں کردار ادا کیا، اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کو نصیحت کرے یا خطے کے امن و سلامتی کے بارے میں کوئی پالیسی تجویز کرے۔
ایرانی سفارت خانے نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے متضاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانات نہ تو خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے اور نہ ہی نیٹو کی ساکھ میں اضافہ کریں گے، بلکہ یہ صرف اس اتحاد کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ