اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراقی میڈیا ادارے العہد نے شہید امت کے قائد آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تشییع کے موقع پر نجف اشرف سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں سوگواروں نے آخر کس گناہ میں شہید کیا گیا؟ کا نعرہ بلند کیا۔
رپورٹ کے مطابق، عزاداروں نے قرآن کریم کی آیت "بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ" (آخر کس گناہ میں قتل کیا گیا؟) پر مبنی نعرے لگائے اور شہید رہنما کے نواسے کی تصاویر بھی اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں۔
العہد کے مطابق، یہ نعرہ شہید رہنما کی وفات پر عوامی غم و اندوہ اور ان کے قتل سے متعلق اٹھائے جانے والے سوالات کی علامت تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شرکاء نے ایسے رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا جس نے اپنی زندگی مظلوم اقوام کے دفاع کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
عراقی میڈیا نے مزید کہا کہ یہ نعرہ قرآن کریم کی سورۂ تکویر کی آیات 8 اور 9 سے ماخوذ ہے اور جب زندہ دفن کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا، کہ وہ کس گناہ میں قتل کی گئی تھی۔"
رپورٹ کے مطابق، اس قرآنی آیت کے ذریعے سوگواروں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اس الوداع کو ایک گہرا اور علامتی پیغام قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ