7 جولائی 2026 - 21:58
شہید آیت اللہ خامنہ ای عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل تھے/ وہ ایران-پاکستان تعلقات کو اعتقادی اور عوامی بنیادوں پر استوار سمجھتے تھے، سید اقبال رضوی

سید احمد اقبال رضوی نے  انقلاب اسلامی کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیدعلی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی، اور عالم اسلام میں پاکستان کے مقام اور ایران و پاکستان تعلقات کی نوعیت کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کی وضاحت کی۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی اہل‌بیت(ع) ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مذہبی و سماجی شخصیت، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید اقبال رضوی نے ابنا خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیدعلی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کیا اور کہا: انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید کی شہادت نے اسلامی ممالک اور خاص طور پر پاکستان پر وسیع اثرات مرتب کئے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان کے بہت سے علماء، مفکرین اور سیاسی و مذہبی شخصیات رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی کو ایران کی سرحدوں سے بڑھ کر، پوری امت اسلامی سے تعلق رکھنے والی شخصیت سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک، وحدت اسلامی کو تقویت دینے، فلسطین کاز کی حمایت اور امت اسلامیہ کے روابط مستحکم کرنے میں رہبرِ شہید انقلاب کا کردار، عالم اسلام میں ان کے لئے ایک عدیم المثال مقام و منزلت کا سبب بنا ہے۔

سید احمد اقبال رضوی نے میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت، پاکستان سے ان کی محبت، اور ایران و پاکستان تعلقات کی نوعیت پر گہرے اور اہم خیالات کا اظہار کیا۔

انھوں نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کو عالم اسلام کا قلب و روحِ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت عالم اسلام اور انسانیت کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مگر شہادت ہی ان جیسی عظیم شخصیتوں کے شایانِ شان ہوتی ہے۔

سید رضوی کے بقول، پاکستان کے بارے میں رہبرِ شہید کا نظریہ یہ تھا کہ پاکستان صرف ایک پڑوسی نہیں، بلکہ اہم اسلامی ملک ہے جوعالم اسلام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ پاکستانی عوام کے شیعہ اور سنی عوام کو دیندار، آزمودہ،  اور محب اہلِ بیت(ع) قرار دیتے تھے اور ان کی دینی وابستگیوں کو پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے تھے۔

انھوں نے کہا: رہبرِ شہید کی رائے کے مطابق، ایران و پاکستان کے تعلقات محض سیاسی یا سفارتی نہیں، بلکہ اسلامی، اعتقادی اور عوامی بنیادوں پر استوار ہیں؛  رہبرِ شہید کا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ تعلق دو حکومتوں کا نہیں، دو مسلمان قوموں کا ہے جس کی جڑیں مشترکہ اقدار، آرزوؤں اور ذمہ داریوں میں پیوست ہیں۔ وہ فلسطین، کشمیر، وحدتِ اسلامی، اور دشمنانِ امت کے خلاف تعاون کو اس برادری کا لازمی حصہ سمجھتے۔

انھوں نے رہبرِ شہید کی شہادت کے بعد پاکستان میں عوامی ردعمل کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ پاکستانی عوام خاص طور پر مذہبی طبقے کا انقلاب اسلامی کے اہداف، استقلال، عزتِ اسلامی، مظلوموں کی حمایت، اور استکبار کے خلاف مزاحمت سے گہرا جذباتی اور فکری تعلق ہے۔

انھوں نے آخر میں زور دیا کہ ایران و پاکستان کے درمیان حقیقی وحدت کا مرکز کوئی عارضی سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ مشترکہ ایمان، محبتِ اہلِ بیت(ع) سے محبت، انصاف پسندی، اور امتِ مسلمہ کے مستقبل کی فکر ہے، جسے رہبرِ شہید نے ہمیشہ اپنی فکر کا محور بنایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha