بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ فلسطینی نژاد امریکی سائنسدان اور مصنفہ "سوزان ابوالہوی" (Susan Abulhawa) فلسطینی امریکی مصنف اور کارکن، نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر سے وداعی تقریب کی ایک ویڈیو دوبارہ نشر کرکے لکھا کہ یہ منظر، ایران میں "محبت، غم، مزاحمت (و مقاومت) اور قومی اتحاد" کا مظہر ہے اور اس کی عالمی کوریج، امریکہ کے 250 ویں یوم آزادی سالگرہ کی تقریبات سے بہت کہیں آگے نکل گئی ہے۔

یہ الفاظ ابوالہویٰ نے 'کامبیٹ' (Combate) نامی اکاؤنٹ پر لکھے ان الفاظ پر رد عمل میں لکھے ہیں، جس نے اپنی پوسٹ میں انقلاب کے امام شہید سے وداع کے مراسمات میں کروڑوں انسانوں کی شرکت پر لکھا تھا: "آج کوئی مغربی رہنما اس سطح پر عوامی محبت اور اتنی وسیع توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا قابل نہیں ہے۔

انھوں نے ان عظیم تاریخی مراسمات سے "ٹرمپ کے اظہار حیرت" کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو رہبر اپنی سرزمین اور اپنے عوام کے دفاع کی راہ میں شہید ہوتے ہیں، وہ شہادت کے بعد بھی اپنا اثر و رسوخ نہیں کھوتے۔

انہوں نے واقعہ عاشورا کا حوالہ دیتے ہوئے، امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کو ایک تاریخی نمونہ قرار دیا اور کہا کہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی اور شہادت اسی ورثے کی توسیع و امتداد ہے اور دنیا کے بہت سے لوگ ابھی تک اس حقیقت کو صحیح طور پر نہیں سمجھ پائے ہیں۔

*****
یہ بات بجا ہے' اور شاید دور اندیشانہ اور مستقبل کی طرف اشارہ ہے کہ ایران میں محبت، غم، مزاحمت اور قومی یکجہتی کے اس عظیم اُجالے نے امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی خوب تشہیر کردہ تقریبات (touted 250th US birthday celebration) کو 'قطعی طور پر' گرہن (eclipse) لگا دیا ہے۔
ابو الہوی کے یہ الفاظ 'کامبیٹ' (Combate) نامی اکاؤنٹ پر لکھے ان الفاظ پر رد عمل پر سامنے آئے ہیں کہ:
[امام] خامنہ ای کے جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو رہے ہیں جو بہت عظیم تر ہیں اس سے کہ کسی بھی مغربی رہنما نے اپنی پوری زندگی میں، یا موت کے وقت، یا کبھی مستقبل میں اپنی طرف نہیں کھینچ لئے ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ