بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جمعہ 3 جولائی 2026 کو، یمن کی مسلح افواج نے اپنے فضائی دفاع کے ذریعے سعودی لڑاکا طیاروں کو پیچھے دھکیل دیا جو ایرانی سول طیارے کو صنعاء ایئرپورٹ پر اترنے سے روکنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
تیسری اور آخری قسط:
بہرحال 3 جولائی کے واقعے نے ثابت کر دیا کہ عزم، مقامی ٹیکنالوجی اور دوستوں کی حمایت طویل ترین ناکہ بندیوں کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔ تحریک انصاراللہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوطی سے میدان میں کھڑی ہے اور یہ چھوٹی مگر بامعنی فتح، 11 سال کے منظم ظلم و جبر کے خاتمے کی راہ میں ایک اہم قدم ہے۔ یمن نے اس کامیابی کے ساتھ ایک بار پھر واضح کیا کہ مزاحمتی و مقاومتی قومیں اپنی تاریخ خود لکھ سکتی ہیں۔
یہ فتح تمام ان یمنیوں کی ہے جنہوں نے برسوں صبر کیا اور قربانی دی اور اب انھوں نے ناکہ بندی کے ٹوٹ جانے کا مزہ چکھ لیا ہے۔ مستقبل روشن تر ہوگا، بشرطیکہ ان کامیابیوں کو ہوشیاری اور جہد مسلسل اور جاری و ساری مزاحمت کے تسلسل سے مستحکم کیا جائے۔
کچھ تجزیہ کار اپنے دلائل کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ایک ٹیکٹیکل کامیابی سے بڑھ کر ہے؛ یہ انصاراللہ اور یمنی مقاومت کے لئے ایک اسٹراٹیجک اور علامتی فتح شمار ہوتی ہے۔ انصاراللہ نے 11 سال کی شدید ناکہ بندی کے بعد، اپنے مقامی فضائی دفاع کے ذریعے سعودی ارادے کو توڑ دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ اب آسانی سے یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔
یہاں تک کہ مغربی اور صہیونی میڈیا نے بھی اس اقدام کو "ناکہ بندی کی قابلِ ذکر شکست" اور "یمنیوں کی اہم فتح" قرار دیا اور تسلیم کیا کہ طاقت کا توازن صنعاء کے حق میں بدل گیا ہے۔ اس فتح کی کئی پرتیں۔ ایسی صورت حال میں جب سعودی عرب طویل اور فرسودہ کر دینے والی جنگ کے اخراجات سے عاجز آکر تھک چکا ہے اور جنوبی محاذ پر بھی بحران کے انتظام میں مصروف رہنے پر مجبور ہے، انصاراللہ کی اس درست ضرب نے ریاض کی تسدید کی ساکھ کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں نے زور دیا کہ یہ واقعہ مکمل ناکہ بندی کے خاتمے کے عمل کا آغاز ہو سکتا ہے اور مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں انصاراللہ کے سودے بازی کی صلاحیت بہت زیادہ حد تک بڑھا سکتا ہے۔
بہرصورت یمن آج زیادہ سربلندی کے ساتھ کھڑا ہے اور یہ چھوٹی مگر میٹھی فتح، ان لوگوں کے لئے بہتر دنوں کی نوید دیتی ہے جنہوں نے برسوں تک تاریخ کی طویل ترین ناکہ بندیوں میں سے ایک کو برداشت کر لیا ہے۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ