اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایک سابق صہیونی سکیورٹی عہدیدار نے ایران میں منعقدہ رہبر شہید کی آخری رسومات میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت پر ردعمل دیتے ہوئےکہا ہیکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں جانتا کہ ان کا سامنا کس سے ہے۔
المیادین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق شاباک عہدیدار عامیت آسا نے صہیونی نشریاتی ادارے آئی چوبیس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران کی طاقت کا مظہر تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بڑے اجتماع سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا نظام اب بھی عوامی سطح پر اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہے اور اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی اس کا ثبوت ہے۔
سابق صہیونی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقیقت میں نہیں جانتے کہ ان کا سامنا کس فریق سے ہے اور خطے میں حالیہ تجربات کے باوجود وہ غلط راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب عبرانی اخبار یدیعوت آحارانوت نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران میں کئی روز سے جاری آخری رسومات، جو مختلف شہروں میں منعقد ہو رہی ہیں، صرف جذباتی تقریب نہیں بلکہ ایک سیاسی اور تزویراتی پیغام بھی رکھتی ہیں۔ اخبار کے مطابق ایران اس کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار اور حالیہ جنگ میں اپنی کامیابی کا تاثر پیش کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ لاکھوں افراد کی شرکت کو ایران اپنی طاقت، انقلاب کے تسلسل اور اپنے مخالفین کو پیغام دینے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ