2 جولائی 2026 - 12:07
مآخذ: ابنا
اذان پر پابندی فلسطین کی اسلامی شناخت مٹانے کی کوشش ہے:حماس

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مساجد میں اذان کی نشریات محدود کرنے کے ابتدائی بل کی منظوری پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر حملہ اور فلسطینی اسلامی شناخت کو مٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مساجد میں اذان کی نشریات محدود کرنے کے ابتدائی بل کی منظوری پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر حملہ اور فلسطینی اسلامی شناخت کو مٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام عبادت کی آزادی سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تنظیم کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایسے قوانین فلسطین کی عرب اور اسلامی شناخت کو تبدیل کرنے، مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے اور عبادت کی آزادی محدود کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔

حماس نے کہا کہ اذان فلسطین اور بیت المقدس کی مذہبی اور تاریخی شناخت کا لازمی حصہ ہے اور کسی بھی قانون یا پابندی کے ذریعے مساجد کی آواز یا اس سرزمین کی شناخت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

بیان میں فلسطینی عوام، عرب اور اسلامی ممالک، نیز مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسجد اقصیٰ اور عبادت کی آزادی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha