بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی اخبار والاسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ کا آغاز اس سوال سے کیا ہے کہ: "ایران نے امریکی بحری اڈے کو کیونکر تباہ کر دیا اور امریکی حسابات کو کیونکر تبدیل کیا؟" اور بحرین میں امریکی بحری اڈے کی تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس انتہائی اہم اڈے ـ یعنی امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے اس ہیڈکوارٹر ـ کو شدید نقصانات کا شکار ہونا پڑا ہے۔
ایران کے میزائلوں اور ڈرونز نے بحرین میں ریاستہائے متحدہ کے پانچویں بحری بیڑے کو بارہا شدید حملوں کا نشانہ بنایا۔

امریکی دہشت گرد فوج کے سابق اور موجودہ حکام نے والاسٹریٹ کی رپورٹ کی تصدیق کی کہ "ایرانی پروجیکٹائلز اپنے اہداف تک پہنچے اور انہوں نے وسیع نقصانات پہنچائے۔" اس اڈے پر سیٹلائٹ ٹرمینلز کے ساتھ ساتھ، کمانڈ سنٹر اور کم از کم 12 دیگر اہم عمارتیں، مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔ لیکن پینٹاگون نے ان نقصانات کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے۔

والاسٹریٹ جرنل کے مطابق، یہ اڈہ مشرق وسطیٰ میں ریاستہائے متحدہ کا واحد ہیڈکوارٹر ہے جو "ایک چھوٹے سے امریکی شہر کی طرح کام کرتا تھا۔" ملاح جو ہفتوں سمندر میں رہتے تھے، بحرین جاتے تھے اور وہاں آرام کرتے تھے اور خود کو بحال کرتے تھے۔
ایک امریکی ذمہ دار ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ: "بحرین اڈے اور خطے میں دیگر اڈوں کو وسیع نقصانات پہنچنے کی وجہ سے، ریاستہائے متحدہ کو اپنی علاقائی موجودگی کا ازسرِنو جائزہ لینا پڑا ہے۔"

انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک اور ذمہ دار فوجی ذریعے کے مطابق، امریکہ کویت اور سعودی عرب میں اپنی موجودگی کو کم کرنے اور اڈوں کو دور دراز مقامات پر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ معاملہ امریکہ کے حسابات اور منصوبوں میں تبدیلی اور خطے سے اس کے دستوں کے فرار کی نشاندہی کرتا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران کے ہاتھوں تباہ شدہ ڈھانچوں کو "شاید بالکل ہی، دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے۔" امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات اس قدر زیادہ ہیں کہ پینٹاگون کانگریس کو رپورٹ پیش کرنے سے گریز کر رہا ہے اور یہ معاملہ کانگریس کے اراکین کی ناراضگی اور حساسیت کا باعث بن گیا ہے۔

"سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز" (CSIS) نے منگل کو ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا کہ امریکہ کے لئے جنگ کی لاگت تقریباً 40 بلین ڈالر تھی۔ اس تخمینے میں خطے میں امریکی اڈوں کو 2.2 ارب سے 5.1 ارب ڈالر تک کے نقصانات کا حساب بھی شامل ہے۔ (1)
ایران کے جوابی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں دو AN/GSC-52B سیٹلائٹ مواصلاتی ٹرمینلز اور ایک مواصلاتی انتظامی مرکز کو تباہ کر دیا گیا۔ CSIS کی رپورٹ کے مطابق، یہ ٹرمینلز جو بروقت فوجی قبل از وقت فوجی رابطوں کو ممکن بناتے تھے، ہر ایک کی قیمت تقریباً 20 ملین ڈالر تھی۔

امریکی فضائیہ کے سابق نائب کمانڈر ڈاکٹر راوی چودھری، نے اس بارے میں کہا: "ہم نے اپنی تنصیبات کا دفاع کیا؛ لیکن جو میزائل اور ڈرون ہمارے دفاعی نظام سے گذر گئے وہ ہماری کارروائیوں کے لئے درکار بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کر گئے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ امریکی فوج کو پہنچنے والے نقصانات اور جنگ کے اخراجات کے بارے میں ابھی تک کوئی شفاف رپورٹ شائع نہیں ہوئی ہے۔ پہلے 25 ارب کی رپورٹ آئی، بعد میں 39 ارب اور آخرکار 80 ارب ڈالر کی رپورٹ آئی جبکہ آزآد ذرائع کے اندازے 700 سے 1000 ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ