25 جون 2026 - 07:08
غم حسینؑ سے فرزند زہراءؑ سے وداع تک

ان دنوں میں جب ایرانی قوم خود کو اپنے شہید رہبر امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) سے وداع کے لئے تیار کر رہی ہے اور ساتھ ہی حضرت ابی عبداللہ الحسین (علیہ السلام) کے سوگ میں عزادار ہے، ایک بڑا سوال رائے عامہ میں پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ: کیا ان دو واقعات کے درمیان محض ایک تاریخی ہم وقتی ہے یا ایک گہرا اور تہذیبی و تمدنی ربط؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اصل موضوع، شیعہ ثقافت میں شہادت، تاریخی یادداشت اور سماجی ذمہ داری کے درمیان نسبت کا ادراک ہے۔

کیونکہ قومیں صرف جغرافیے کے ساتھ زندہ نہیں رہتیں؛ قومیں اپنی تاریخی یادداشت سے زندہ رہتی ہیں۔ قرآن کریم بارہا تاریخی واقعات کی یادآوری ان سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتا ہے۔ اگر کوئی قوم اپنے شہیدوں کا بیانیہ محفوظ نہ رکھ سکے تو دوسرے اس کا بیانیہ لکھیں گے۔ شیعہ کے نزدیک، شہادت کسی راستے کا اختتام نہیں، بلکہ بعد کی نسلوں کی ذمہ داری کا آغاز ہے۔

ان محرم کے دنوں میں، جب امام حسین (علیہ السلام) کا نام گلیوں اور حسینیوں میں گونج رہا ہے، بہت سے ایرانی اپنے شہید رہبر کی فقدان کو بھی عاشورا کے آئینے میں دیکھ رہے ہیں۔

رہبرِ شہید امام خامنہ ای جو حقیقتاً سیدہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے فرزند ہیں؛ اور اسی وجہ سے، اپنے پیروکاروں کے ذہن اور احساس میں، ان کی یاد اس راہ اور مکتب سے جڑی ہوئی ہے جو کربلا سے اثر لیتا ہے؛ ایسا مکتب جو ایمان، استقامت، صبر اور حق کے ساتھ وفاداری پر استوار ہے۔ اس تناظر میں، ان کے لئے "میرے رہبر کی یاد اور محبت" کی سرگوشی محض ایک سیاسی شخصیت کی یاد دہانی نہیں، بلکہ ان آرمانوں کے ساتھ تجدید عہد ہے جنہیں شیعہ حسین بن علی (علیہما السلام) کے مشن کے تسلسل میں، جانتے پہنچانتے ہیں۔

اسلامی ایران اور خطے کے مسلمانوں کے رہبر شہید کی تشییع جنازہ کی آمد پر، کروڑوں افراد عزائے محرم کے ماحول میں ہیں؛ ایسا ماحول جو تاریخ اسلام میں ظلم کے خلاف جدوجہد کے سب سے بڑے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ دونوں واقعات میں، رائے عامہ کو تین تصورات کا سامنا ہے:

1۔ عدالت طلب اور ظلم کے خلاف لڑنے والے رہبر کی شہادت

2۔ مظلومیت کا احساس

3۔ تاریخی بیانیے کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری

لیکن معاشرے کا فرض محض سوگ منانا نہیں؛ بلکہ سوگ کو آگاہی میں اور آگاہی کو سماجی ذمہ دارانہ عمل میں تبدیل کرنا ہے۔

تاریخ اسلام ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ شہادت، کسی تاریخی سلسلے کا آغاز بنی ہے۔ امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت عاشورا کی تحریک کا خاتمہ نہیں تھی؛ بلکہ اس کی پائیداری و بقاء کا آغاز تھی۔ عالم اسلام میں ابھرنے والی بعد کی تحریکیں، مقاومت کی ثقافت کی تشکیل اور حتی کہ مسلمانوں کی بہت سی عدالت پسندانہ تحریکیں، عاشورا کی یادداشت (حافظے) سے متاثر رہی ہیں۔

شیعہ ثقافت میں، واقعہ کربلا کو کبھی بھی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں سمجھا گیا، بلکہ یہ حق پرستی اور حق طلبی اور تحریف کے خلاف جدوجہد کے لئے ایک مستقل مکتب فکر اور مدرسے کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔

ماہرین سماجیات کا ماننا ہے کہ اقوام کو بقا کے لئے اجتماعی یادداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ محققین مواصلات بھی اس عقیدے پر ہیں کہ بیانیے خود واقعات سے زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔

دنیا کے بہت سے دانشوروں کا ماننا ہے کہ طاقت کے مراکز افراد کو منظر عام سے حذف کر سکتی ہیں، لیکن بیانیوں کو حذف کرنے میں ناکام ہیں۔

اسی وجہ سے، آج کی دنیا میں اصل تنازع، فوجی ہونے سے زیادہ، بیانیوں کا تنازع ہے۔

ہر سال کروڑوں افراد محرم اور اربعین کے جلوسوں اور ریلیوں میں شرکت کرتے ہیں۔

یہ وسیع شرکت ظاہر کرتی ہے کہ چودہ صدیاں گذرنے کے بعد، واقعۂ عاشورا اب بھی زندہ ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ایک واضح پیغام پر مشتمل ہے جو یہ ہے کہ: جو چیز پائیدار ہوتی ہے وہ فوجی طاقت نہیں؛ بلکہ بیانیے کی طاقت ہے۔

بہت سے حکمرانوں اور صاحبان اقتدار کے نام بھلائے جا چکے ہیں، لیکن امام حسین (علیہ السلام) کا نام اور یاد اب بھی قوموں کے دلوں میں زندہ ہے۔

موضوع محض ایک سیاسی یا فوجی واقعہ نہیں۔ اصل موضوع، فراموشی اور یادداشت کے درمیان جنگ ہے۔

تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ جب بھی کوئی قوم نے اپنی تاریخ کو محفوظ رکھتی ہے، وہ ناقابل شکست ہوجاتی ہے۔

قرآنی نگاہ میں، حق اور باطل محض دو تاریخی دھارے نہیں؛ بلکہ انسانی زندگی میں دو مستقل مشن ہیں۔ ہر نسل کو اس علمی اور اخلاقی جنگ میں اپنا مقام متعین کرنا چاہئے۔

شیعہ علماء نے ہمیشہ اس بات پر تاکید کی ہے کہ عاشورا کا سب سے اہم پیغام، آگاہی بخشنا اور ذمہ داری قبول کرنا ہے۔

ماہرین ابلاغیات کی بھی یہی رائے ہے کہ سماجی نیٹ ورکس کے دور میں، حقیقت کو محفوظ رکھنا اور تحریف کا مقابلہ کرنا معاشروں کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔

اس لحاظ سے، آج کا سب سے بڑا فرض جذباتی ردعمل نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے حقائق کی صحیح وضاحت و تشریح کرنا ہے۔

آج عاشورا کے مدرسے سے ـ کسی بھی دوسرے زمانے سے زیادہ ـ سبق سیکھنا چاہیے۔

حقیقت کو ثبت (ریکارڈ) کرنا چاہئے۔

بیانیوں کو محفوظ رکھنا چاہئے۔

قوم کی تاریخی یادداشت کو تحریف کا شکار نہیں ہونے دینا چاہئے۔

قومی اتحاد کو مضبوط کرنا / رکھنا چاہئے۔

سوگ کو بصیرت میں اور بصیرت کو سماجی ذمہ داری [اور سماجی ذمہ داری کو قومی مشن] میں تبدیل کرنا چاہئے۔

آج کے لئے عاشورا کا پیغام یہ ہے کہ ممکن ہے کہ حق کے لئے قیمت ادا کرنا پڑے، لیکن اس کو فراموش نہیں کیا جاتا۔ شہید ہم میں سے رخصت ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ان کا بیانیہ زندہ رہے تو ان کا مشن بھی زندہ رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: اردشیر اربلی زادہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha