بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف، اور اسلامی جمہوریہ ایرانکے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی، کے دورہ مسقط اور سلطان عمان، ہیثم بن طارق سے ملاقات کے بعد عمان اور ایران کے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ اس اعلامئے میں کہا گیا ہے:
سلطنت عمان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے محمدباقر قالیباف، سپیکر اسلامی جمہوریہ ایران کی مشاورتی اسمبلی، اور سید عباس عراقچی، وزیر خارجہ، کے مسقط میں سفر کے دوران گفتگو کی۔
اس سفر کے دوران، ایرانی وفد نے اعلیٰ حضرت سلطان ہیثم بن طارق اور نیز جناب سید بدر البوسعیدی، سلطنت عمان کے وزیر خارجہ، سے ملاقات اور گفتگو کی۔
یہ اعلامیہ مزید کہتا ہے: سلطنت عمان نے ایک بار پھر 'اسلام آباد مفاہمت نامے' کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا جو ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طے پایا ہے، اور اس مفاہمت نامے کے کامیاب نفاذ کے لئے مذاکرات اور ہم آہنگی جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔"
اعلامئے میں کہا گیا ہے: اسلامی جمہوریہ ایران اور سلطنت عمان نے آبنائے ہرمز کے دو ساحلی ممالکِ کی حیثیت، ایک بار پھر بین الاقوامی قانون کے متعلقہ ضوابط کے مطابق، اس آبی گذرگاہ سے محفوظ جہازرانی کو یقینی بنانے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں واقع اپنے علاقائی پانیوں پر اپنی خودمختاری اور نافذ العمل قوانین کی حکمرانی پر زور دیا۔ نیز دونوں فریقوں نے 'اسلام آباد مفاہمت نامے' کی دفعات کے تحت آبنائے ہرمز سے متعلق موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔
* دو وزارتوںِ خارجہ کے درمیان مشترکہ کمیٹی کا قیام
یہ اعلامیہ مزید کہتا ہے: دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اس موضوع پر اپنی گفتگو کو دو وزارتوںِ خارجہ کے درمیان ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام کے ذریعے جاری رکھیں گے تاکہ آبنائے ہرمز میں مستقبل میں بحری جہاز رانی کے انتظام، اس سلسلے میں فراہم کی جانے والی متعلقہ خدمات، اور نیز ان خدمات سے متعلق اخراجات، بین الاقوامی معیارات کے مطابق، پر تفاہم تک پہنچ سکیں۔ اسی سلسلے میں، فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ خطے کے ساحلی ممالک اور نیز دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت اور گفتگو کریں گے۔"
فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام تر انتظامات کو دونوں ساحلی ممالک کی خودمختاری اور نافذالعمل قوانین کا مکمل احترام کرنا چاہئے۔
سلطنت عمان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے لئے ایک محفوظ اور کھلی آبی گذرگاہ کے طور پر محفوظ رکھنے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ نیز دونوں فریقوں نے بحری حفاظت، جہاز رانی کی آزادی اور علاقائی استحکام کو بہتر بنانے کے لئے تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے آج پریس کانفرنس میں صحافیوں سے آبنائے ہرمز کے انتظام میں عمان کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: "عمان اور ایران دونوں آبنائے کی ساحلی ریاستیں ہیں اور اس راستے سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لئے دونوں فریقوں کے درمیان ضروری ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ جناب قالیباف کے مسقط کے سفر کے دوران بھی یہ موضوع فریقین کے درمیان بحث اور جائزے کا باعث بنا۔"
"محمدباقر قالیباف اور سیدعباس عراقچی کل شام سوئیس اجلاس میں شرکت سے تہران واپسی کے بعد مسقط روانہ ہوئے۔ ڈاکٹر قالیباف اور ڈاکٹر عراقچی نے آج مسقط میں سلطان عمان سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات اور آبنائے ہرمز کے موضوع پر بات چیت کی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان، ڈاکٹر اسماعیل بقائی نے آج پریس کانفرنس میں مذکورہ دورے کو دو طرفہ اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کا تسلسل اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ممتاز، قرار دیا اور مزید کہا: امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کے دوران سلطنت عمان کا مؤقف ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قانون کے عین مطابق تھا۔ ہم عمان کے طرزِعمل کے شکرگزار ہیں۔
اس ملک نے گذشتہ 20 سالوں میں کشیدگی کو روکنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں موثر کردار ادا کیا ہے اور اس لحاظ سے عمان کے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ اس دورے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہم آہنگی جاری رکھنے کے بارے میں بھی بات چیت ہونی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ