بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر رابرٹ پیپ نے اتوار کو نیوزمیکس کو بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات، ایران کے ساتھ تنازع کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں، ایک ایسا مرحلہ جو محض دشمنیوں کے خاتمے پر نہیں بلکہ مغربی ایشیا میں طاقت کے علاقائی توازن پر مرکوز ہے۔
رابرٹ پیپ نے اس بارے میں کہا:
- جو کچھ ہم ـ واقعی ـ دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جنگ کا میدان مذاکرات کی میز پر منتقل ہو گیا ہے۔
- جاری مباحث محض لفظ کے محدود معنی میں "ایک جنگ کے خاتمے کے بارے میں نہیں ہیں" بلکہ "خطے میں مستقبل کی طاقت کے توازن کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔"
- وہ کلیدی اختلافات جو پیش رفت میں رکاوٹ ہیں، ایسے مسائل پر مشتمل ہیں جو اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ کون سا ملک، 'ایران یا امریکہ'، 'خلیج فارس میں غالب قوت کے طور پر' ابھرے گا۔
- کیا ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرے گا اور ٹول وصول کرے گا؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مہینوں سے جاری ہے؛ [اور ایران ایسا ہی کر رہا ہے!]
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات لے لیجئے جنہوں نے اس اسٹراٹیجک آبی گذرگاہ میں ایران کی طرف سے ٹول وصول کرنے کے خیال کو مسترد کر دیا تھا۔
- آج صبح ہی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ "اگر ساٹھویں دن (جنگ بندی) کے بعد ٹول وصول کرنا ہے تو یہ امریکہ ہو گا جو ٹول وصول کرے گا، ایران نہیں۔ ٹھیک ہے، آپ فوری طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔"
- پیپ کے مطابق، دوسری اہم رکاوٹ ایران کا افزودہ یورینیم برقرار رکھنے پر اصرار ہے۔
- صرف گذشتہ چند دنوں میں، ایران کے صدر نے کہا ہے کہ "ایران اس افزودہ یورینیم کو بدستور اپنے پاس رکھے گا۔"
- ٹرمپ نے بھی عوامی طور پر اس موقف کی مخالفت کی ہے۔
- یہ اختلافات جاری سفارت کاری کے باوجود تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔
- یا تو ایران ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ یا تو ایران پسپا ہوتا ہے اور افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر نکال دیتا ہے یا نہیں نکالتا! ونس کی سوئٹزرلینڈ میں بحثیں انہی مسائل پر مرکوز ہیں۔
- اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ دو ایسے مسائل ہیں جو بنیادی طور پر مہینوں سے زیر بحث ہیں اور آنے والے دو مہینوں تک بھی زیر بحث رہیں گے۔
- بالآخر، یہ مذاکرات جنگ بندی سے کہیں بڑھ کر زیادہ اہم ہیں۔
- چنانچہ "یہ مذاکرات طاقت کے توازن کے بارے میں ہیں اور یہ تعین کرنے پر مرکوز ہیں کہ واقعی خلیج فارس میں غالب قوت کون ہو گا؟ ایران یا ریاستہائے متحدہ؟" یہی وہ چیز ہے جو یہاں زیر بحث ہے۔
- چونکہ یہ سوالات بلا جواب رہ گئے ہیں، اسی لئے موجودہ لمحے کو تنازع کا خاتمہ نہیں سمجھنا چاہئے۔
- "حالات طویل عرصے تک غیر یقینی صورت حال سے سے دوچار رہیں گے۔"
- جہاں ہم کھڑے ہیں اس کے بارے میں میری تشبیہ یہ ہے کہ یہ کسی فٹ بال میچ میں ہاف ٹائم کی طرح ہے؛ پہلا ہاف کھیلا جا چکا ہے۔ آپ اسکور بورڈ دیکھ سکتے ہیں، لیکن جو کچھ آپ حقیقت میں دیکھ رہے ہیں کہ وہ یہ ہے کہ کھیل ابھی ختم نہیں ہؤا۔
رابرٹ پیپ نے جنگ کے آغاز سے کئی مرتبہ کہا ہے کہ "ایران چوتھی بڑی طاقت بن چکا ہے"، "ایران کی طاقت بڑھ رہی ہے"، "ایران کے پاس طاقت کے تمام عناصر موجود ہیں"، وغیرہ وغیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ