22 جون 2026 - 02:39
ایران نے مذاکرات میں واپسی کو دو شرطوں سے مشروط کر دیا، المیادین

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں المیادین نیٹ ورک کے دفتر کے ڈائریکٹر نے اعلان کیا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد، ایرانی وفد نے مذاکرات کے مقام کو ترک کر دیا اور مذاکرات میں واپسی کے لئے 2 شرطیں پیش کیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ المیادین نیٹ ورک کے دفتر کے ڈائریکٹر نے جنیوا شہر میں اعلان کیا کہ مذاکرات کی معطلی اور مذاکراتی اجلاس میں داخل نہ ہونے کے بارے میں ایران کا جواب واضح تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی وفد صرف ٹرمپ کی طرف کی معذرت خواہی اور جنوبی لبنان سے اسرائیل کی پسپائی کے بعد مذاکرات میں واپس آئے گا۔

المیادین نے واضح کیا کہ ایرانی اب صرف اسرائیل کی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ جنوبی لبنان سے قابض صہیونیوں کی پسپائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی بے بنیاد دھمکیاں دہرا دیں اور کہا: "میں انہیں زمین بوس کر دوں گا۔"

امریکی صدر نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ اس نے ایرانی فریق سے کہا ہے: "اگر تم آبنائے ہرمز بند کرو گے تو تمہارا کوئی ملک نہیں رہے گا۔ تم اپنے لعنتی ملک میں بھی واپس نہیں جا سکو گے۔"

ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے ٹول وصول کرنے کی بات کی اور دعویٰ کیا: "اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو ہم ٹول وصول کریں گے!!"

ایران کا مذاکراتی وفد ٹرمپ کی دھمکیوں کے احتجاج میں مذاکرات چھوڑ کر چلا گیا

مذاکراتی وفد کے قریبی ذریعے نے بتایا: ایرانی مذاکراتی وفد ٹرمپ کی دھمکیوں پر احتجاج کرتے ہوئے مذاکرات کے مقام سے چلا گیا۔

ایک باخبر ذریعے نے بھی اس سے قبل فارس کو بتایا کہ ٹرمپ کی دھمکی نے سوئٹزرلینڈ کے مذاکرات کو روک دیا اور مذاکرات کے امتداد کو غیری یقینی صورت حال سے دوچار کیا۔

ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے بھی سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا:

- کیا وہ خود نہیں سوچتے کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ ہوتا تو وہ آج کی اس لاچارگی اور بے بسی تک نہیں پہنچتے؟

- ہم امریکیوں کی دھمکیوں کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دیتے۔

- بہتر ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر بات کریں۔

- ہماری مسلح افواج تیار ہیں کہ انھیں کسی اور طریقے سے جواب دیں۔

- وہ جو بھی کہیں، عمل کرنے والے ہم ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha