اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جرمنی کے صدر Frank-Walter Steinmeier نے ایران کے خلاف امریکی جنگی اقدامات اور کشیدگی میں اضافے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 2015 کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو حالیہ بحران سے بچا جا سکتا تھا۔
جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فرانک والٹر اشٹائن مائر نے کہا کہ سابق امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے اپنی پہلی صدارتی مدت میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے دستبرداری ایک افسوسناک فیصلہ تھا۔
اشٹائن مائر، جو اس معاہدے کے وقت جرمنی کے وزیر خارجہ تھے، نے کہا کہ 2015 کا معاہدہ ایک جامع اور مؤثر فریم ورک تھا، اور آج جس نئے معاہدے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ اسی معاہدے جیسا ہو سکتا ہے۔
جرمن صدر کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والا 2015 کا معاہدہ ان تمام بنیادی نکات کا احاطہ کرتا تھا جنہیں اب دوبارہ طویل مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے حالیہ جنگ اور کشیدگی غیر ضروری تھی اور اس سے بچا جا سکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے خاتمے کے بعد خطے میں دوبارہ تناؤ بڑھا، جبکہ اگر وہ معاہدہ برقرار رہتا تو حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والے بہت سے واقعات سے بچنا ممکن تھا۔
اشٹائن مائر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایران کے حوالے سے جاری سفارتی کوششیں جنگ کے خاتمے اور خطے میں زیادہ استحکام کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حتمی اور تفصیلی معاہدہ طے پا سکے گا یا نہیں۔
آپ کا تبصرہ