21 جون 2026 - 10:30
حصۂ اول | ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ؛ تسدید (Deterrence) کی نئی تعریف

 لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، ہر ایک فریق کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنے کے لئے تزویراتی امتحان تھی، اپنے مقابلے میں، حریف کے مقابلے میں اور علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے مقابلے میں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' نے لبنانی روزنامے 'الاخبار' میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں لکھا:

اسرائیل کے لئے جنگ کے پانچ تباہ کن نتائج؛ ایران کو ختم نہیں کیا جاسکتا

ایران کے خلاف ہمہ گیر امریکی اور اسرائیلی جنگ اس ملک [ایران] کی طاقت کی دیوار سے ٹکر کر پاش پاش ہو گئی۔ اس جنگ نے نہ صرف ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا، بلکہ علاقائی توازن کو اس کے حق میں کر دیا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول، غیرمتناسب حکمت عملی اور کثیراتہاہ پر مشتمل تسدید (Deterrenc) نے ایران کو ایسا ملک بنا دیا ہے جس کو ٹرمپ جیسوں کی خواہش پر مسمار کیا جاسکے، یا حتیٰ اس کو عالمی منظومے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکے۔

ایران کے خلاف جنگ، نے نہ صرف فوجی قوتوں کے توازن کو تبدیل نہیں کیا بلکہ اس نے خطے میں تسدید اور اور سرنوشت سازی کی حدود کی ازسرِ نو تعریف کی اور اسرائیل کو ایران کے بارے میں اور اس کے ساتھ مستقبل کے تصادم کے بارے میں اپنے اسٹراٹیجک مفروضات پر گہری نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ؛ بازدارندگی کی ازسرِ نو تعریف

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، ہر ایک فریق کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنے کے لئے تزویراتی امتحان تھی، اپنے مقابلے میں، حریف کے مقابلے میں اور علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے مقابلے میں۔

ریاستہائے متحدہ اس مفروضے کے ساتھ جنگ میں داخل ہؤا کہ اس ملک اور ایران کے درمیان فوجی طاقت کے لحاظ سے بے پناہ فرق ہے اور یہ فرق اسے اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ ضرورت پڑنے پر اپنی مرضی کے بڑے سیاسی نتائج حریف [ایران] پر مسلط کر سکے۔ تاہم، گذشتہ ساڑھے تین ماہ کے تجربے نے واشنگٹن پر یہ ثابت کر دیا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ضرب لگانے اور تباہ کرنے والی طاقت سیاسی ماحول کو ازسرنو ترتیب دے سکے، حریف ملک کو اطاعت پر مجبور کر پائے، نظام حکومت کو بدل سکے، یا علاقائی توازن کی نئی معماری کر پائے۔

ایران "غیر متناسب حکمت عملی کے ساتھ"؛ میزائل اور جوہری ہتھیاروں سے بالاتر

ایران، امریکہ کی فوجی اور تکنیکی برتری کے ادراک کے لئے اس جنگ کا محتاج نہیں تھا؛ اسی لئے ایران نے اس تجربے کے آغاز سے قبل ہی "غیر متناسب حکمت عملی" (Asymmetric strategy) اپنا لی تھی، جس نے حالیہ جنگ میں اس کی حقیقی طاقت اور افادیت کو عیاں کر دیا۔

حقیقی تصادم کے دوران یہ بات عیاں ہو گئی کہ ایران کی قوت کے عناصر صرف ایٹمی پروگرام، میزائلوں یا علاقائی اتحادیوں تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ قوت تہران کی اس صلاحیت تک پھیلی ہوئی ہے کہ وہ تنازع کے گرد و نواح کے اسٹراٹیجک ماحول کو متاثر کر سکتا ہے اور عالمی توانائی کی حفاظت، تجارت اور بحری جہازرانی کے شعبوں میں ایک وسیع علاقائی اور بین‌الاقوامی بحران پیدا کر سکتا ہے؛ اور وہ بھی میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے ذریعے نہیں، بلکہ غیر متناسب فوجی اوزاروں اور جغرافیائی حکمت عملی (Geostrategic) کے فوائد کے امتزاج کے ذریعے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محترمہ فتانہ غلامی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha