11 جون 2026 - 03:40
حصۂ سوئم | حضرت امام خمینی جامع الاطراف دینی، فکری و سیاسی شخصیت

معاصر ایران اور عالم اسلام کی تابناک فکر کی قافلے میں، ایک نام تاریخ جتنی وسعت رکھتا ہے؛ ایک ایسا رہنما جو سیاست، فقہ اور عرفان میں سماتا نہیں، کیونکہ وہ خود، ان تمام شعبوں کے لئے ایک نئی سرحد تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) "ایک [واحد] شخصیت" نہیں تھے؛ وہ "ایک شخصیت کے اندر ایک تہذیب" تھے۔ وہ اس نادر حقیقت کا مظہر ہیں جسے انسانی فکر کی تاریخ میں "جامع الاطراف" (اور کثیر الجہت اور ہر جہت میں مکمل) شخصیت  کہا جاتا ہے: ایک فلسفی جو سیاست کو بغیر عرفان کے ادھورا سمجھتا ہے، ایک عارف جو فقہ کو سماجی تبدیلی کے بغیر تنگ نظر (بے لچک) شمار کرتا ہے، اور ایک فقیہ جو روحانیت کو "سماجی الہیات" کے میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔

حصۂ سوئم:

3۔ زندہ جاوید عرفانی کاوشیں:

امام کے عرفانی آثار کا قیمتی مجموعہ، 'معرفت و سلوک' کا گنجینہ ہے۔ ان کی اہم ترین کاوشوں میں "شرح دعائے سحر"، "مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ والولایۃ"، "تعلیقہ بر فصوص الحکم"، "اسرار الصلاۃ"، "آداب الصلاۃ" اور "شرح چہل حدیث" شامل ہیں۔ یہ کاوشیں نہ صرف امام کے عرفانی نقطہ نظر کی گہرائی کا مظہر ہیں، بلکہ اخلاق و سلوک کا ایک ایسا جامع نظام پیش کرتی ہیں جو نئے دور کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے۔

فلسفۂ امام؛ حکمت متعالیہ کا وارث

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے فقہ و اصول کے ساتھ ساتھ دیگر علمی شعبوں ـ جیسے ریاضی، فلکیات اور بالخصوص فلسفے ـ میں بھی محنت کی۔ وہ فلسفہ کے میدان میں، علامہ طباطبائی کی طرح، ملاصدرا کی حکمت متعالیہ سے گہرے طور پر متاثر تھے؛ یہ وہ مکتب ہے جو عقل، نقل اور قلب کو اکٹھا کر لیتا ہے۔

فلسفہ میں امام کی جدتیں:

• سبزواری کی شرح منظومہ اور ملا صدرا کی شرح اسفار پر ان کی فلسفی یادداشتیں، حکمت متعالیہ کی فکر کی تشریح اور توسیع میں ان کے بلند مقام کو نمایاں کرتے ہیں۔

• اسفار اربعہ (ملاصدرا کے آثار) پر حاشیہ، امام کی اہم ترین فلسفی تصنیفات میں شمار کیا جاتا ہے۔

• امام نے اپنی فلسفی تصانیف میں، برہان، عرفان اور قرآن کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی اور ایک ایسا فلسفی نظام پیش کیا جس میں عقل، وجدان کی طرف پرواز کا راستہ ہے۔

امام کے فلسفے کی ممتاز خصوصیت، محض تجرید و انتزاع سے نکل کر اسے موحدانہ زیست سے جوڑنا ہے۔ امام کے لئے فلسفہ ذہنی کھیل نہیں، بلکہ حقیقت اور فرائض کی پہچان کا راستہ ہے۔

امام کی شاعری؛ عرفان کی تجلّی علمِ کلام کے آئینے میں

شاید دنیا والوں کے لئے امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی شخصیت کا  سب سے حیرت انگیز پہلو ان کی شائع ہونے والی شاعری تھی۔ جب امام کا پہلی غزل ان کے بیٹے، سید احمد خمینی مرحوم نے، ان کی رحلت کے چند دن بعد روزنامہ "کیہان" میں شائع کی، تو یہ ایران اور بیرون ملک بڑی حیرت اور تعجب کا باعث بنی۔ امام کے اشعار کا مکمل مجموعہ (دیوان) شائع ہؤا اور اس نے بہت سے گہرے عرفانی مفاہیم و تصورات کو آشکار کر دیا جو اس سے پہلے نامعلوم تھے۔

اشعار امام کا مرکزی ترین موضوع: وحدت الوجود

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی شاعری خاص تنوع اور گہرائی رکھتی ہے اور علمی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے "وحدت الوجود" کو اپنی فکر میں "نظری عرفان" کے انتہائی مرکزی موضوع کے طور پر پیش کیا ہے اور "وحدت الشہود" کے نظریئے کو عملی عرفان کے مرکز میں رکھا ہے۔ یہ نگاہ ان کے اشعار میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ امام کے اشعار میں "وحدت" کا موضوع، عرفانی تعلیمات جیسے "فنا فی اللہ" (اپنے ارادے اور مرضی کو اللہ کے ارادے اور مرضی کے سپرد کرنا) اور اس مقام تک پہنچنے کے سلوک (و سفر) کے مراحل کی عکاسی کرتا ہے۔

امام کے اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے گہرے فلسفی اور عرفانی مفاہیم کو جاندار اور مؤثر کلام کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ امام کے قصیدے، ابن عربی کے "انسان کامل" کے نظریے کو سیاسی نظریہ ولایت فقیہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کی غزلیں، حافظ کے عرفان کو سماجی اور سیاسی تنقید کے ساتھ ملاتی ہیں۔ اور ان کی رباعیاں، فارسی شاعری کی سادہ ترین شکل میں، انتہائی گہرے وجودی مفاہیم و تصورات کو منعکس کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد مہدی مؤمنی نیا

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha