11 جون 2026 - 02:58
حصۂ دوئم حضرت امام خمینی جامع الاطراف دینی، فکری و سیاسی شخصیت

معاصر ایران اور عالم اسلام کی تابناک فکر کی قافلے میں، ایک نام تاریخ جتنی وسعت رکھتا ہے؛ ایک ایسا رہنما جو سیاست، فقہ اور عرفان میں سماتا نہیں، کیونکہ وہ خود، ان تمام شعبوں کے لئے ایک نئی سرحد تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) "ایک [واحد] شخصیت" نہیں تھے؛ وہ "ایک شخصیت کے اندر ایک تہذیب" تھے۔ وہ اس نادر حقیقت کا مظہر ہیں جسے انسانی فکر کی تاریخ میں "جامع الاطراف" (اور کثیر الجہت اور ہر جہت میں مکمل) شخصیت  کہا جاتا ہے: ایک فلسفی جو سیاست کو بغیر عرفان کے ادھورا سمجھتا ہے، ایک عارف جو فقہ کو سماجی تبدیلی کے بغیر تنگ نظر (بے لچک) شمار کرتا ہے، اور ایک فقیہ جو روحانیت کو "سماجی الہیات" کے میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔

حصۂ دوئم:

ثقافت اور سیاست کا تعلق: تہذیب کا مرکزہ

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی زندہ جاوید ہونے کا راز اس چیز میں تلاش کرنا چاہئے جسے ماہرین "سماجی الٰہیات" کہتے ہیں: ایک ایسا دین جو مسجد اور مکتب سے سڑک، پارلیمنٹ، میدان جنگ اور سفارت خانے تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ انسان جو کسی زمانے میں نجف میں "اسلامی حکومت" کا درس دیا کرتے تھے، ایران واپس آکر ایک ایسی ریاست کے بانی بن گئے جس میں فقیہ، صدر، وزیر، کمانڈر اور استاد سب ہی اپنے آپ کو ایک "خدائی فریضے" کا موردِ خطاب، دیکھتے ہیں۔

یہ وہی جامعیت ہے جس میں عرفان انفرادی طرز عمل سے سماجی انصاف میں، فلسفہ تجرید و انتزاع سے جہادی ترتیب میں، اور فقہ انفرادی فتوؤں سے قانون اساسی (آئین) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

امام نے دنیا کو سمجھا دیا کہ روحانیت کے بغیر سیاست، بربریت ہے اور سیاست کے بغیر روحانیت تحجر (اور تنگ نظری) ہے۔

عرفان، فلسفہ اور شاعری؛ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کے بحر معرفت کا ایک گوشہ

اگر ہم امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی شخصیت کو ایک "نگین" سمجھیں، تو ان کے عرفان، فلسفے اور شاعری کے ہر ایک پہلو سے اس تابناک گوہر کی الگ الگ روشنی منعکس (Reflect) ہوتی ہے۔ جو چیز پہلی نظر میں حیرت انگیز لگتی ہے، وہ ان کی ذات میں ان تینوں شعبوں کا گہرا اور عضوی (Organic) تعلق ہے؛ اس طرح کہ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بغیر صحیح طرح سے نہیں جانا جا سکتا۔ ان پہلؤوں میں کھوج لگائے بغیر امام کی شخصیت کا جامع تجزیہ، اس قائدِ دانا کی نامکمل اور یک طرفہ تصویر پیش کرے گا۔

امام کا عرفان؛ انفرادی سلوک سے تہذیب سازی تک

یقیناً امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی تمام تر فکری و عملی بنیادوں کو ان کی عرفانی فکر اور وجدانی (یا شہودی) خداشناسی میں تلاش کرنا چاہئے۔ عرفان امام کے فکری نظام میں کبھی گوشہ نشینی اور سماجی گوشہ نشینی پر منتج نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس کے برعکس، ترقی و تحوّل و تحرک کا اصل جوہر تھا۔ امام نے علمی اور برہانی سلوک کے دبیز پردے کو چاک کرتے ہوئے، بندگی کی حقیقت کو اپنی ذات میں نمایآں کر دیا اور قرآن کی روشنی میں ایمانِ کامل اطمینان قلبی کے مرتبے پر فائر ہوئے۔

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کے عرفان کے ستون

1۔ عظیم اساتذہ سے فیضیابی:

امام نے سات سال تک آیت اللہ میرزا محمد علی شاہ آبادی (رضوان اللہ علیہ) کے پاس "عرفانِ نظری" اور "عرفانِ عملی" کی اعلیٰ ترین چوٹیاں سر کر لیں۔ اس عرصے میں انھوں نے "شرحِ فصوص"، "مصباحُ الاُنس" اور "منازل السائرین" کو سیکھ لیا اور "شرحِ دعائے سحر" اور "مصباح الہدایہ" جیسی نادر تصانیف تحریر کیں۔ امام ہمیشہ آیت اللہ شاہ آبادی کو "شیخِ عارفِ کامل" اور "روحی فَداہُ" جیسے الفاظ کہہ کر یاد کرتے تھے۔

2۔ نئے مروجہ عرفانوں سے ممتاز مکتب:

امام کا عرفان ایسی کھری (اصیل) خصوصیات کا حامل تھا جو ان کے راستے کو آج کے نئے مروجہ (New-fashioned) عرفانوں سے ممتاز کرتی تھی۔ ان کی کائناتی تشریح، قرآن کریم اور معصومین (علیہم السلام) کی سنت کے سہارے، معنویت (روحانیت) کو انفرادی پہلوؤں کے علاوہ اجتماعی پہلوؤں پر بھی محیط تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد مہدی مؤمنی نیا

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha