اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور ناکام جنگ بندیوں کے اہم ذمہ دار بن چکے ہیں، جبکہ اس صورتحال کی سب سے بڑی قیمت عام لوگ ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں معروف تجزیہ کار سائمن ٹسڈال نے لکھا کہ ٹرمپ نے یوکرین، غزہ، ایران اور لبنان سمیت مختلف تنازعات میں امن قائم کرنے اور جنگیں ختم کرنے کے دعوے کیے، لیکن وہ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور کئی معاملات میں حالات مزید خراب ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق لبنان میں حالیہ جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جبکہ ایران کے معاملے میں بھی جنگ بندی بار بار ٹوٹ رہی ہے۔ اسی طرح سوڈان میں صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے اور مؤثر ثالثی کا فقدان عالمی بحرانوں کو بڑھا رہا ہے۔
گارڈین نے لکھا کہ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کو ایک دن میں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن جنگ اب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ روس کے حق میں جھکاؤ اور یوکرین کی فوجی امداد میں کمی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اخبار کے مطابق ایران کے خلاف حملوں اور بعد ازاں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود نہ تو مقاصد حاصل ہوئے اور نہ ہی خطے میں استحکام آیا، بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے سیاسی مسائل کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس حکمت عملی نے طویل جنگوں، سیاسی بحرانوں اور عوامی غصے کو جنم دیا۔
غزہ کے بارے میں گارڈین نے لکھا کہ ٹرمپ کی حمایت یافتہ جنگ بندی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ جلد ناکام ہو گیا، جبکہ فلسطینی عوام اب بھی شدید مشکلات اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ، یمن، میانمار اور کانگو سمیت کئی خطوں میں پائیدار امن کے لیے مؤثر سفارت کاری کی شدید کمی ہے۔
مصنف نے زور دیا کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگوں کا مستقل حل فوجی طاقت نہیں بلکہ پیشہ ورانہ، متحرک اور مؤثر سفارت کاری ہوتی ہے، جو امن کے دروازے کھولتی ہے۔
آپ کا تبصرہ