اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے بڑے دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم پیش رفت حاصل ہو رہی ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بڑی کامیابی کے قریب ہے اور ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی کے حوالے سے متعدد اعلانات کر چکی ہے، تاہم ان پیش رفتوں کی عملی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ تیار ہو چکا ہے اور اس کی حتمی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جلد اس معاہدے کا اعلان کیا جائے گا۔
اسی طرح ایک اور بیان میں انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے بھی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
اپنے حالیہ بیانات میں ٹرمپ نے اپنے سابق مشیر قومی سلامتی جان بولٹن پر تنقید کرتے ہوئے انہیں انتہائی جنگ پسند قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عسکری راستہ اپنانے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کے حوالے سے بھی غیر معمولی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاشی امور پر ان کے مؤقف میں فرق کم ہے۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست ملاقات کے امکانات بھی زیر بحث ہیں، تاہم ماسکو کا مؤقف ہے کہ ملاقات صرف امن معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کے بعد ہی ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، یوکرین اور روس سے متعلق امریکی بیانات عالمی سفارتی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ حقیقی پیش رفت کا انحصار آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔
آپ کا تبصرہ