30 مئی 2026 - 15:00
حصۂ اول | ٹرمپ کی 'ابراہیم معاہدوں' کی توسیع مسلط کرنے میں ناکامی

ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں صہیونی ریاست کے ساتھ معمول کاری کی غرض سے پیش کردہ نام نہاد 'ابراہیم معاہدوں'  کو دوسرے ممالک پر مسلط کرنے اور اسے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے منسلک کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ٹرمپی خواہش ان ممالک کی مخالفت کی سخت دیوار سے ٹکرا گئی۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے اس منصوبے کی کمزوریوں کو پہلے سے بھی زیادہ، بے نقاب کر دیا، جبکہ واشنگٹن برسوں سے پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی نئی تشکیل ہو رہی ہے، اسرائیل کو خطے میں ضم کیا جائے گا اور معمول کاری کا عمل ان ہی خواہشات کی تکمیل کی تمہید ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی کانگریس کے قریبی اخبار 'The Hill' نے رپورٹ دی کہ 'امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ابراہیم معاہدے کو ایک تاریخی کامیابی کے جشن' کے برسوں بعد، یہ منصوبہ آج بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے؛ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ جاری ہے اور صہیونی ریاس کی پالیسیوں اور امریکی حکومت کی بے وفائیوں سے عرب عوام کے غصے میں اضافہ ہؤا ہے، چنانجہ معمول کاری (Normalization) کی نئی لہر کے بارے میں بات کرنا غیر حقیقت پسندانہ لگتا ہے۔

ترامپ نے متعدد عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے اپنے رابطوں کے دوران، ان معاہدوں میں نئے ممالک کی شمولیت کو امریکہ اور ایران مذاکرات سے منسلک کرکے، وسیع تر انتظامات کے حصے کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن اس کو اپنی اس کوشش کا کوئی مثبت ردعمل نہیں ملا اور متعلقہ ممالک نے یا تو اس پر خاموشی اختیار کی یا پھر اسے صراحت کے ساتھ مسترد کر دیا۔

پاکستان کا موقف سب سے زیادہ صریح تھا؛ اس ملک کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے زور دے کر کہا کہ ابراہیم معاہدے میں شمولیت ان کے ملک کی پالیسی کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ انھوں نے اس تصور کو مسترد کر دیا کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کاری کے لئے کوئی بھی سرکاری نقطہ نظر موجود ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو علاقائی معمول کاری کا ایجنڈا مسلط کرنے کے لئے استعمال کرنے کی ٹرمپی کوشش اس دباؤ کی سطح کو عیاں کرتی ہے جس کا وہ اسرائیلی کابینہ اور امریکہ کے اندر اپنے اتحادیوں (یعنی ایران کے ساتھ معاہدے کے مخالفین) کی طرف سے سامنا کر رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایران کے جوہری کیس سے بڑھ کر سیاسی اور اسٹراٹیجک کامیابیاں حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔

'ہل' کی رپورٹ کے مطابق، اس حقیقت کے باوجود کہ اسرائیل کے حامی، ابراہیم معاہدے کی توسیع کو ایران کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کے لئے ایک آلے کے طور پر پیش کرتے ہیں، علاقائی حقیقت بتاتی ہے کہ بہت سے عرب ممالک، غزہ میں جنگ کے جاری رہنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہونے کے پیش نظر، معمول کاری اپنی ترجیح نہیں سمجھتے۔

نیز، سعودی عرب کا موقف اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس ملک کے ولی عہد محمد بن سلمان اب بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی معمول کاری کے لئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابل اعتماد قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ شرط مقبوضہ علاقوں میں آنے والی یکے بعد دیگرے آنے والی صہیونیوں حکومتوں نے مسترد کر دی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: پریسا فیضی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha