29 مئی 2026 - 08:47
امریکہ ایران جنگ کا "جارح اور ہارا ہؤا" فریق ہے، جیفری ساکس + ویڈیو

مشہور و معروف امریکی ماہر اقتصادیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنے ایک بیان میں ایران کے خلاف حالیہ امریکی-اسرائیلی جارحیت کی نوعیت کو "غیرقانونی" اور "مَن مانی" قرار دیا ہے اور کہا کہ واشنگٹن نہ صرف اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکا ہے، بلکہ "جارح اور ہارے ہوئے فریق" کا ٹائٹل بھی جیت گیا ہے۔ / دوہرے معیاروں کی رو داد ڈاکٹر جیفری ساکس کی زبانی= ویڈیو

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مشہور و معروف امریکی ماہر اقتصادیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس (Jeffrey Sachs) نے روسی خبر ایجنسی 'تاس' (TASS) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:

- ایران پر حالیہ امریکی-اسرائیلی جارحیت "غیرقانونی" اور "مَن مانی" کے زمرے میں آتی ہے

- واشنگٹن نے ایران کو ترنوالہ سمجھ لیا تھا اور اس ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے، اس پر قبضہ کرنے، اس کے نظام حکومت کے خاتمے، اس کے تیل کے ذخائر ہتھیا لینے اور اس کو اسرائیل-فرینڈلی ملک بنانے جیسے اعلانیہ مقاصد کے تحت ایران پر حملہ کیا۔

- امریکہ نہ صرف اپنے ان مقاصد تک تک نہیں پہنچ سکا، بلکہ کا "جارح اور ہارا ہؤا فریق" بھی بن گیا۔

- خبردار، اگر یہ تنازع جاری رہا تو یہ بہ آسانی "تیسری جنگ عظیم" کا باعث بن سکتا ہے۔

- آبنائے ہرمز کی بندش جاری ہے اور یہ صورت حال دنیا میں "بے مثال اقتصادی بحران" پیدا کر رہی ہے۔

- امریکہ اس کشیدگی کو جاری رکھے گا اور یہ کشیدگی بڑھے گی تو خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔

- واشنگٹن کے یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

- ایران اس جنگ میں قصوروار نہیں بلکہ غیر قانونی جارحیت کا شکار ہے۔

- امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کر رہا ہے لیکن اسے جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

- ایران فوجی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے، امریکہ کے ابتدائی تصورات سے کہیں زیادہ، طاقتور اور  مضبوط ہے۔

- میں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ کا انجام درحقیقت "امریکہ کی پسپائی" اور ایران کی تسدید کی عظیم صلاحیت میں اضافے کی صورت میں ہوگا۔

- ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کے پہلے دن (28 فروری 2026ع‍ کو) سلامتی کونسل کا اجلاس کا منعقد ہؤا اور میں انتہائی شدید حیرت سے دوچار ہؤا کہ سب نے ایران کو مورد الزام ٹہرایا اور اس کی مذمت کی!!

- حقیقتا یہ کہ شرمناک اور "رسواکن" طرز عمل تھا: "حقیقت کو الٹ پلٹ کر پیش کرنا" "امریکہ کے حامی ممالک نے جارح کی مذمت کے بجائے جارحیت کا شکار ملک پر سوال اٹھائے!!

- مغربی ایشیا کے عرب ممالک ـ جو جارح کی حمایت کرتے ہیں اور جارحیت کا نشانہ بننے والے ملک ایران پر تنقید کرتے ہیں ـ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے اپنی آزادی کھو چکے ہیں وہ امریکہ کے حلقہ بگوش ہیں۔

- آشکار و عیاں اور ناقابل انکار حقیقت یہ ہے کہ ایران واضح جارحیت کا نشانہ بنا ہے اور امریکہ اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔

- جب ایران خلیج فارس میں امریکی اڈوں پر حملہ کرتا ہے، تو وہ اپنے جائز دفاعی حق کو استعمال کر رہا ہوتا ہے۔

دوہرے معیاروں کی رو داد ڈاکٹر جیفری ساکس کی زبانی:

 

جس دن ایران کے رہبر کو قتل کیا گیا۔

جس دن ایران کے 40 اعلی حکام کو قتل کیا گیا۔

جس دن ـ یہاں تک ـ کہ رہبر کی نواسی کو قتل کیا گیا۔

کیا واقعہ رونما ہؤا؟

سب سے پہلے بحرینی ترجمان؛

بحرینی سفیر نے کہا: ہم یہاں ہیں کہ مذمت کریں اپنے اوپر ایران کے بلاوجہ حملوں کو۔

بلاوجہ؟

امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد، میں نے اپنے آپ سے کہا: شاید میں نے غلط سنا۔

اس کے بعد فرانسیسی سفیر آیا؛ بولا: ہم پڑوسی ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

اس کے بعد برطانوی سفیر کی باری آئی؛ بولا: ہم ایران کی مذمت کرتے ہیں!

بعدازاں یونانی سفیر آیا، اور بولا: ہم ایران کی مذمت کرتے ہیں۔

بالکل اسی روز، جب ایران پر حملہ ہؤا، صرف تین ممالک ایسے تھے جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ـ ایران پر حملہ کرنے کی بنا پر ـ مذمت کی: روس، چین، اور شاید صومالیہ نے افریقی ممالک کے نمائندے کے طور پر، اس جارحیت کی مذمت کی۔ صرف تین ممالک!

مجھے سوچنا چاہئے تھا کہ کیا واقعہ رونما ہو رہا ہے۔

بہت دلچسپ بات ہے!

جس ملک نے بھی یہ باتیں کہیں، اس کی سرزمین میں امریکی اڈہ موجود ہے۔

یہ آزاد اور خودمختار ممالک نہیں ہیں؛

ان میں بات کرنے کی جرات نہیں ہے۔

وہ امریکی فوج کے میزبان ہیں۔

وہ امریکی سی آئی اے کے میزبان ہیں۔

[مبینہ طور پر] ان کی حفاظت کے لئے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 امریکہ ایران جنگ کا "جارح اور ہارا ہؤا" فریق ہے، جیفری ساکس + ویڈیو

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha